خبریں

Ph-19-3-17
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان آل انڈیا اہل حدیث سیمینار میں علماء ودانشوران ودھرم گرو کا اظہار خیال
دہلی۔۱۹مارچ
قومی یکجہتی اور انسانیت نوازی ہر وقت اور ہر معاشرہ کی ضروت ہے ،سب مل کرقومی یکجہتی کا ثبوت دیں ، انسانیت کا دم بھریں اورامن وشانتی کوعام کریں تاکہ ملک ومعاشرہ اور سارے جہاں میں اخوت و محبت ، عدل و انصاف اور ہمدردی و خیر خواہی کا جذبہ پروان چڑھے اور کسی طرح کی دہشت گردی کو پنپنے کا موقع ہی نہ ملے اور اس طرح ہر جگہ اخوت کی فراوانی اور محبت کی جہاں بانی ہو۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے کیا۔ موصوف مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان آل انڈیا اہل حدیث سیمیناربعنوان: ’’ داعش ودہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار‘‘ منعقدہ ۱۹مارچ ۲۰۱۷ء بمقام اہل حدیث کمپلیکس، اوکھلا ، نئی دہلی میں افتتاحی خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی ایک ناسور بنا ہوا ہے اور عالمی طور پر اس کا چرچا ہے۔ اس کی بیخ کنی کے لیے جتنی جتن ہو کیا جانا چاہئے۔ داعش کا عظیم ترین فتنہ دشمنان اسلام کا ایک بہت بڑا حربہ اور ہتھکنڈہ ہے اسے ختم کرنے کے لیے بھی ہمیں متحدہ طور پر قومی یکجہتی اور انسانیت نوازی کو عام کرنا ضروری ہے۔ عدلیہ نے جس طرح سے بہت سارے مقدمات میں دہشت گردی کے نام پر مظلوموں اور بے قصوروں کو بری قرار دیا ہے وہ لمحہ فکریہ ہے اس سلسلے میں مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ اس میں ذرا بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ آتنک وادایک غیراسلامی عمل ہے اور ہمیں اس سلسلہ میں کسی صفائی کی چنداںضرورت نہیں ہے۔ جب تک شر ہے خیرباقی رہے گا اور شر کا تعاقب کرتا رہے گا۔ ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کا پیچھاکیاہے اور کرتے رہیں گے۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکانفرنسوں ،سمیناروں ،سمپوزیموں ،اخباری بیانات نیزاپنی اکائیوں کے نام سرکلرس کے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف معاشرے میں بیداری کی مہم جاری رکھے ہوئے ہی،اسی طرح قومی یکجہتی کے فروغ میں بھی اس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔آج کا یہ سمپوزیم اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔لہٰذا بلااختلاف مذہب وملت تمام ہموطنوں سے اپیل ہے کہ وہ مشترکہ طور پر داعش ودہشت گردی کی بیخ کنی میںقومی یکجہتی کو فروغ دیکر نمایاں کردار ادا کریں۔
سمینار کا آغاز حافظ دلشاد احمد کی تلاوت کلام پاک اور جناب عبدالصمد سوزؔ ناظم صوبائی جمعیت مدھیہ پردیش کے پیش کردہ قومی یکجہتی پرپرمغز اور شاندارمنظوم کلام سے ہوا ۔اس کے بعد مولانامحمدہارون سنابلی ناظم شعبہ تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے مہمانان کرام کاخیرمقدم کیااور داعش ودہشت گردی کی بیخ کنی میں مرکزی جمعیت کی خدمات کو سراہا۔
بعدازاں سابق کمشنر برائے اقلیتی السنہ،حکومت ہندپروفیسر اخترالواسع نے ناظم عمومی مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی کے سمینار میں دعوت دینے کے لئے شکریہ اداکیا اور مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے دہشت ووحشت کے کاروبار کے خلاف جو تحریک چلارکھی ہے اسے ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ انہوں اس سے قبل جاری مرکزی جمعیت سے جاری ہونے والے دہشت گردی وداعش کے فتووں کی بھی تحسین کی۔پروفیسر صاحب نے ناظم عمومی کی اس بات کے لئے بھی ستائش کی کہ وہ بین المسالک خلیج کو پاٹنے کی کوشش برابر کرتے رہتے ہیںجو ان کا لائق ستائش قدم ہے۔
9 دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤکے مہتمم ڈاکٹرسعیدالرحمن الاعظمی نے کہاکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے سلسلہ میں دشمنان اسلام کی سازشوں کا دائرہ وسیع تر ہوتاجارہاہے۔مغربی معاشرہ میں اسلام مخالفت کا رجحان بڑھا اور مغربی تہذیب نے اس میں ہراول دستے کا کام کیا۔یہود کی مجرمانہ سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔عصر حاضر میں داعش کا فتنہ عالم اسلام کے لئے صرف تشویش کن ہی نہیں، بلکہ اس کی پیشانی پر بدنماداغ ہے۔یہ یہودیوں کا تیار کردہ گروہ اور مغرب کا پروردہ ہے۔آج کی یہ کانفرنس جو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی طرف سے منعقد ہورہی ہی، میں سمجھتاہوں کہ یہ کانفرنس اسلام کی حقانیت اور باطل نظریات کی تردید میں سنگ میل ثابت ہوگی، اوراسلام کے صاف ستھرے چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں معاون ہوگی۔ آج کی اس کانفرنس میں ملک وملت اورجماعت اہل حدیث کے معتبر علماء ،دانشور،دھرم گرواوراہم شخصیات شرکت کررہی ہیں، اہل علم وفکر کی یہ کہکشاں اسلام کے خلاف تمام فتنوں کو بے نقاب کرے گی اور داعش کے مکرو فریب کو طشت ازبام کرے گی۔میں مرکزی جمعیت کے ذمہ داران خاص طورپر ناظم عمومی فضیلۃ الشیخ اصغرعلی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ کو مبارکباد دیتاہوں کہ انہوں نے نہایت ہی اہم اور حساس موضوع پر آج کی یہ کانفرنس منعقد کی ہی، اور یہ حقیقت ہے کہ قومی یکجہتی کے ذریعہ ہی تمام فتنوں اور یلغاروں کا مقابلہ کیاجاسکتاہے۔
Oجماعت اسلامی ہندکے امیرمولاناجلال الدین عمری نے کہاکہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ایک تنظیم داعش کے نام سے وجود پذیر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے علاقہ پر قابض ہوگئی اور قتل وخونریزی کے سارے ریکارڈ توڑدئے۔دنیاکی کوئی بھی مسلم تنظیم یاصاحب علم ایسا نہیں ملے گا جس نے اس کی تائید کی ہو۔ پھر اسے کیسے اسلامی کہاجاسکتاہی؟ جمعیت کے اس پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ بہت ہی کارآمد ہے اور اس کے انعقاد کے لئے وہ شکریہ کی مستحق ہے۔اس سے لوگوں کو حقیقت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ہم سب کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ کوئی بھی نوجوان گمراہ نہ ہونے پائے۔
آل انڈیاملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرمنظورعالم نے کہاکہ ۱۷،۱۶،۱۹۱۵ء میں اسلام مخالف طاقتوں کامسلم ممالک کو تقسیم کرنے کے لئے ایک پیکٹ ہواتھااسی منصوبہ کے تحت ترکی کو شکست دی گئی۔ آج جو بھی کچھ ہورہاہے وہ سب اسی پیکٹ کی تنفیذ ہے۔ہمیں یہ ہرگز نہیں سوچناچاہئے کہ داعش ختم ہوگیاتو کوئی ایسی ہی تنظیم اس کی جگہ نہیں لے گی۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدرنویدحامد نے داعش کاپس منظر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ داعش ایک چھلاوہ ہے جس سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے داعش کے خلاف مرکزی جمعیت کے اجتماعی فتویٰ پرذمہ داران جماعت کو مبارکبادپیش کی اور کہا کہ یہ حکومت اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ داعش کے تمام وسائل کو بند کریں۔
زکوۃ فاؤنڈیشن کے صدرڈاکٹرظفرمحمود نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دہشت گردی مخالف مساعی کی ستائش کی اور بنیادی فرائض پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ امن کا رشتہ عدل سے ہے۔ ہر شہری کے حقوق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اتراکھنڈحج کمیٹی کے سابق صدرمولانازاہدرضارضوی نے کہا کہ قومی یکجہتی کی ملک کو ضرورت ہی،انسانیت کو ضرورت ہے۔ ہم وطن کے اعتبار سے ہندوستانی اور مذہبی اعتبار سے مسلمان ہیں۔آج دہشت گردی جیسی برائیاں دنیا میں بہت ہیں۔ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑاجارہاہے۔مولانااصغرعلی سلفی صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس اہم عنوان پر مسلسل کانفرنس اور سمینار منعقدکیاہے۔
مفتی عطاء الرحمن قاسمی صدر شاہ ولی اللہ انسٹیٹیوٹ، نئی دہلی نے کہاکہ میں سب سے پہلے مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی کو اس پروگرام کے انعقاد کے لئے مبارکباد دیناچاہتاہوں۔میں ان کا بے حد شکرگذار ہوں کہ انہوں نے یہ سمینار منعقد کرکے لائق ستائش کام کیاہے۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا: یہ اس وقت کا بہت بڑا المیہ ہے کہ جنہوں نے وطن کوایک قطرہ خون نہیں دیا وہ دیش بھکت اور جنہوں نے سب کچھ لٹادیا وہ دیش کے غدار کہے جارہے ہیں۔داعش کی حرکتیں غیراسلامی ہیں، وہ ہندوستان میں نہیں پنپ سکتی۔
مولانامحمدمسلم قاسمی صدر جمعیۃ علماء دہلی نے پروگرام کے انعقاد کے لئے مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ حضرت مولاناارشد مدنی کے نمائندے کی حیثیت سے سمینار میں اپنی شرکت کو باعث سعادت سمجھتاہوں۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پروگرام کی شروعات مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ہی نے کی ہی،جس کے لئے وہ شکریہ کی مستحق ہے۔
sممتاز ہندورہنماپنڈت این کے شرما نے سناتن دھرم کی رواداری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ جو زمین پر ہیں وہ ہمارے بھائی ہیں۔حضرت محمد ہمارے نزدیک اتنے ہی قابل احترام ہیں جتنے آپ کے نزدیک ہیں کیونکہ ان کا تذکرہ ہماری مذھبی کتابوں میں ہے۔ اسلام پوری انسانیت کے لئے ہے۔گذشتہ تمام اجتماعات وسمپوزیم کی ستائش کی اور کہاکہ غیر سماجی عناصر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونگے ۔ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر تمام مسالک کے لوگ متحدہوجائیں تو حکومت اور سیاسی پارٹیاں مسلم مسائل کو حل کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گی۔آپ نے مرکزی جمعیت کی اس سلسلہ میں پیہم کوششوں کو سراہا۔
آل انڈیا تنظیم ائمہ مساجد مولانا عمیر الیاسی نے سیمینار کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ سیمینار کا موضوع بہت اہم ہے ۔ کیوں کہ قومی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر عبدالرحمن انجاریا ممبئی نے کہا کہ داعش کے خلاف مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کا اجتماعی فتویٰ قابل مبارکباد ہے۔ داعش نا اسلامی جماعت ہے اور نا انسانی جماعت۔
0اس سمینار میں علماء کرام وقلمکاران عظام نی’’داعش ودہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار‘‘کے زیر عنوان مختلف موضوعات پر بیش قیمت پرمغزمقالات پیش کئے ۔ جن میںمولاناعبدالمبین فیضی استاذ جامعہ محمدیہ کھیدوپورہ، مئو، مولاناجنید مکی مدیر جمعیۃ الشبان المسلمین بجرڈیہہ بنارس، مولاناطہ سعیدخالدمکی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث اڈیشہ ، مولاناشھاب الدین مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی، مولاناخورشیدعالم مدنی قائم مقام امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار، ڈاکٹرارشد فہیم الدین مدنی نائب رئیس جامعہ امام ابن تیمیہ بہار،مولانامظہراعظمی استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مئو ، مولانا شفیق احمدندوی استاذ جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو، مولاناسعیداحمدعمری مدنی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھرا پردیش، مولانا محمدعلی مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار، مولانامطیع اللہ حقیق اللہ مدنی استاذ کلیہ خدیجہ الکبریٰ للبنات جھنڈا نگر نیپال، مولاناعبدالرحیم مکی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ، مولانا غلام محمد بٹ امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث جموں و کشمیر، ڈاکٹر محبوب الرحمن شعبہ سنی دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی میڈیا کوآرڈینٹر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مولانا ریاض احمد سلفی نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مولانا محمد اظہر مدنی ڈائریکٹر اقراء انٹرنیشنل اسکول جیت پورنئی دہلی، مولانا محمد انظر سلفی اسکالر جواہر لعل نہر یونیورسٹی، مولانا سعید الرحمن نور العین سنابلی باحث المرکز الاسلامی للترجمہ والتالیف جیت پور ، ڈاکٹر محمد ابراہیم بخاری، مولانا عبدالودود مدنی استاذ جامعہ فیض العلوم سیونی ایم پی وغیرہ شامل ہیں۔
Gعلاوہ ازیںسمینار کو جن شخصیات نے خطاب کیا اور اس میں اپنے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے مرکزی جمعیت کی اس کے انعقاد پر ستائش کی، مرکزی جمعیت کی قیادت کو مبارکباد پیش کی نیزداعش اوردہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اسے بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم مصمم کیا،ڈاکٹرظل الرحمن تیمی،جناب محمداسلم خان ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک وگوا، مولاناعبدالرحیم عمری، مولاناعبدالستار سلفی قائم مقام امیرصوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی، مولانا منظر احسن سلفی، مولانا نثار احمد مدنی عمید جامعہ اسلامیہ سنابل اور مولاناعبدالنور سلفی استاذجامعہ ریاض العلوم دہلی قابل ذکر ہیں۔
سمینارکے دوران داعش ودہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردارسے متعلق جمعیت سے شائع ہونے تمام جرائد ومجلات کے خصوصی شماروںکااجرائء بھی عمل میں آیا۔علاوہ ازیںسیمینار کے لیے مختلف صوبوں کے گورنرس ، مرکزی وزراء اور ملی ادارہ جات کے ذمہ داران مثلا مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی، سابق وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ ہریش راوت، ایڈمنسٹریٹر آف لکھشدیپ فاروق خان، گورنر کرناٹک، گورنر میگالیہ، گورنر اڈیشہ، گورنر مہاراشٹر، مہتمم دار العلوم دیوبند مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، صدر علماء کونسل اتراکھنڈ مولانا زاہد رضا رضوی اور کمال فاروقی وغیرہ کے پیغامات میں سے سابق وزیراعلیٰ صوبہ اتراکھنڈ ہریش راوت جی کا سمینار کے نام پیغام ان کے سکریٹری جناب سید قاسم صاحب نے پڑھ کر سنایاجس میں سمینارکے انعقاد پر خوشی کا اظہارکیا گیااور دہشت گردی کی مذمت میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی کوششوںکو خراج تحسین پیش کیاگیا۔واضح رہے کہ ’’ داعش ودہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار ‘‘ کے زیر عنوان اس سمینار کا انعقادمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام بعد نماز عصر اہل کمپلیکس،نئی دہلی کی جامع مسجد کے اندردونشستوں میں ہواپہلی نسشت بعد نماز عصرتاصلٰوۃ مغرب زیرصدارت بقیۃ السلف مولاناعبدالرحمن مبارکپوری وزیرنظامت مولاناریاض احمد سلفی نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند عمل میں آئی جبکہ دوسری نشست بعد نماز مغرب زیر صدارت ڈاکٹر عبدالرحمن پریوائی سابق استاذ جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض وزیرنظامت مولانامحمدہارون سنابلی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی منعقد ہوئی۔ جس میں ہندوستان کی تقریبا تمام صوبائی جمعیات کے ذمہ داران اراکین و مدعوئین خصوصی مجلس عاملہ مرکزی جمعیت مدارس اہل حدیث کے ذمہ داران اور پورے ہندوستان سے نمایاں قلمکاروں ،علماء وطلبہ ودینی، ملی ،سماجی وسیاسی شخصیات اور عامۃ المسلمن نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔پروگرام کے اختتام پر قومی یکجہتی کے فروغ اور داعش ودہشت گردی کی مذمت میں مختلف قراد ادیں پاس کی گئیں اور رات ساڑھے دس بجے یہ عظیم الشان سمینار خازن مالیات جناب الحاج وکیل پرویز کے کلمات تشکر کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔اس سیمینار میں مولانا منظر احسن سلفی ممبئی، ڈاکٹر عبدالعزیز مدنی مبارکپور ، ڈاکٹر عبدالدیان انصاری پنجاب، مولانا جلال الدین فیضی ممبئی، شعیب انصاری اڈیشہ، مولانا عبدالعلیم عمری تمل ناڈ، مولانا عبدالغنی عمری آندھراپردیش، مولانا محمد رضوان سلفی پورنیہ، عبدالوحید جانی حیدر آباد، مفتی جمیل احمد مدنی دہلی، مولانا عزیز احمد مدنی دہلی، مولانا عرفان شاکر دہلی، حکیم محمد عرفان پنجاب، مولانا محمد اقبال محمدی مئو، حاجی وکیل احمد بھدوہی، حافظ عتیق الرحمن طیبی لکھنؤ، مولانا کلیم اللہ سلفی جونپور، حافظ کلیم اللہ سلفی دیوریا، مولانا عبدالرحمن سلفی ہریانہ، مولانا نواب احمد سلفی ہریانہ، مولانا محمد صدیق سلفی، حافظ خالد سیف اللہ ممبئی، انجینئر امان اللہ دہلی، مولانا اشفاق ریاضی دہلی، اسلم بابر علی دہلی، ایڈوکیٹ محمد احمد دہلی، احسان خسرو دہلی، عامر عبدالرشید دہلی، ڈاکٹر عیسیٰ خان انیس جامعی ہریانہ، عطا ء اللہ انور پٹنہ، عبدالحفیظ مکرانہ راجستھان، مولانا محمد اسماعیل سرواڑی راجستھان، مولانا محمد صابر سلفی راجستھان، مولانا سجاد حسین مغربی بنگال، مولانا شمیم احمد ندوی مغربی بنگال، مولانا عبدالودود مدنی ایم پی وغیرہ کے علاوہ گرد و پیش کی اہم شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اخیر میں درج ذیل قرار داد پاس ہوئیں۔
٭ ’’داعش اوردہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کاکردار‘‘کے زیرعنوان منعقدہونے والے اس سمینارکا احساس ہے کہ معاشرہ میں پائی جانے والی تمام برایئوںاور فساد کی جڑ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے ۔اس لئے یہ سمینارتمام تنظیموں اور جماعتوں سے اپیل کرتاہے کہ وہ معاشرے میں پائی جانے والی تمام برائیوں کے خاتمہ کے لئے اسلامی تعلیمات کو عام کریں۔
٭ یہ سمینارتمام مسالک اور مذاہب کے رہنماؤں سے اپیل کرتاہے کہ وہ ملک میں قومی یکجہتی ، آپسی بھائی چارہ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت وضرورت کومحسوس کریں اورملک کو تعمیر وترقی سے ہمکنار کرنے کے لئے متحد ہوکرکام کریںنیزایسے لوگوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کریں جوملک کی قومی یکجہتی کوزک پہنچارہے ہیں۔
<٭ یہ سمینارداعش نیزدیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتاہے اور اقوام عالم اور تمام انصاف پسندوں سے یہ اپیل کرتاہے کہ وہ داعش اور اس کی دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے اجتماعی طورپر آواز اٹھائیں علاوہ ازیں سمیناریہ مطالبہ بھی کرتاہے کہ دہشت گردی کی آڑمیںکسی خاص طبقہ اورمذہب کونشانہ نہ بنایا جائے کیوںکہ داعش کا کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ داعش اوراس کے افراد بعض انسانیت دشمن عالمی طاقتوں کے آلہ کارہیں جواپنے مقصد کی تکمیل کے لئے اور اسلام اور مسلمانوں کوبدنام کرنے کے لئے غلط قسم کے جارحانہ اقدامات اورجھوٹاپروپیگنڈہ کررہے ہیں۔
٭ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیرنگرانی’’داعش ودہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار‘‘ کے زیرعنوان سمینار کوموجودہ ملکی وعالمی حالات کے پیش نظر اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کے انعقادکی ستائش کرتاہے اورامیدکرتاہے ک اس سیمینارکے دورس نتائج برآمدہوںگے۔ یہ سیمینارمساجد کے ائمہ وخطباء اور تمام دھرم گروئوں سے اپیل کرتاہے کہ وہ عوام کو قومی یکجہتی کی اہمیت اورافادیت سے آگاہ ومتنبہ کریںاور اس کے فروغ میں اپنا فرض منصبی اداکریں۔

۱۴؍مارچ ۲۰۱۶ء 
دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور ہے۔ داعش اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سازش ہے یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے ۔ اس کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جماعت اہل حدیث کا عقیدہ و منہج دہشت گردی کے خلاف ہے ہم دہشت گردی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ۲۰۰۴ء سے ہی دہشت گردی کے خلاف مہم چھیڑے ہوئی ہے۔ یہ دو روزہ عظیم الشان ۳۳؍ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔ موصوف کل رات یہاں تاریخی رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام تینتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں پورے ملک سے امڈے ہوئے عوامی سیلاب سے خطاب کررہے تھے۔ 
انہوں نے کہا ائمہ کرام ملک و ملت اور انسانیت کے معمار ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک و ملت اور انسانیت کو جب کوئی اہم مسئلہ یا چیلنج درپیش ہوتا ہے تو یہ آگے بڑھ کر اپنا تاریخی و منصبی کردارادا کرتے ہیں۔ کانفرنس میں موجود ائمہ کرام کی بھاری تعداد نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے مقابلہ کے لیے کافی سنجیدہ اور پوری طرح تیار ہیں۔
اس اجلاس میں مولانا محمد ہارون سنابلی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی نے ’’صالح معاشرہ کی تشکیل میں ائمہ کا کردار ‘‘، ڈاکٹر سعید احمد عمری امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش نے فتنہ و فساد کے دور میں ائمہ کا کردار ، مولانا عبدالرحیم مکی، امیر صوبائی جمعیت اہلحدیث تلنگانہ نے ’’خطباء کے اوصاف قرآن وحدیث کی روشنی میں‘‘، مولانا ابو زید ضمیر پونہ نے ’’انسانیت کے فروغ میں ائمہ و خطباء کا کردار‘‘، مولانا شاہ ولی اللہ عمری نائب امیر صوبائی جمعیت اہلحدیث کرناٹک نے’’ ہندوستا ن میں مساجد کا تحفظ مسائل اور تدابیر ‘‘، مولانا معراج مدنی نے ’’ازالہ اوہام ورسوم میں مساجد کا کردار‘‘ ، مولانا جرجیس سراجی نے ’’مساجد اسلامی تشخص کے امین ‘‘ ، مولانا ثناء اللہ مدنی نے ’’رسم و رواج کے خاتمہ میں ائمہ و خطباء کا کرادار‘‘ ، مولانا مطیع اللہ حقیق اللہ استاذ مدرسہ خدیجۃالکبریٰ للبنات، جھنڈا نگر نیپال نے ’’ ائمہ کی ناقدری ۔ذمہ دار کون؟ ‘‘ ، مولانا عبدالغنی القوفی نیپال نے ’’خطابت کے اصول و مبادی ‘‘ کے موضوعات پر مغز خطاب کیا اور اس کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کیا۔
سعودی سفارت خانہ کے شیخ احمد علی الرومی نے کہا کہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی اس بابرکت کانفرنس میں اپنی موجودگی کو باعث سعادت جانتا ہوں اور اس موضوع کے انتخاب پر ناظم عمومی مولاناا صغرعلی امام مہدی سلفی کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اسلام وسطیت اور اعتدال کا مذہب ہے اور مساجد کے ائمہ اسلام کے پیغام امن وانسانیت کو عام کرتے ہیں۔ مولانا ابوطالب رحمانی کولکاتہ نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے ائمہ و خطباء مساجد کے عنوان پر نہایت موزوں اور بروقت کانفرنس منعقد کی ہے اس کے لیے ہم ذمہ داران کو مبارباد پیش کرتے ہیں۔
ناخدا مسجد کولکاتہ کے شاہی امام و خطیب مولانا شفیق قاسمی نے کہا مجھے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے بینر تلے تمام مکتب فکر کے علماء جمع ہیں۔ یقیناًمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی و ذمہ داران جمعیت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ان کا مقصد اتحاد پیدا کرنا ہے۔ 
انجمن منہاج رسول کے صدر مولانا سید اطہر حسین دہلوی نے کہا کہ میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ جب مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی صاحب کسی پروگرام میں موجود ہوتے ہیں تو مجھے بڑا حوصلہ ملتا ہے۔ انہوں نے ائمہ و خطباء کو فروعی مسائل سے نکال کر دہشت گردی کے خلاف رام لیلا میدان میں اکٹھا کردیا ہے، اس کے لیے میں ان کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ ڈاکٹر عبداللطیف الکندی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث جموں و کشمیر نے کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا مشکل ترین مسائل سے دو چار ہے ، ائمہ وخطباء کے موضوع پر تاریخی اور عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد نہایت اہم ہے ۔ اس کی سخت ضرورت تھی۔
اس موقع پر صوبائی جمعیت اہل حدیث کیرالہ کے نائب ناظم مولانا عبدالرحمن سلفی، رکن مجلس شوریٰ مولانا عبدالجلیل انصاری (ممبئی) ، شیخ عبدالرحمن العیدان، مولانا رضوان اللہ ریاضی، ڈاکٹر عمر عبدالرحمن العمر اور کنوینراجلاس مولانا اقبال احمد محمدی وغیرہ نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران خصوصا مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارک باد پیش کی اور اس کانفرنس اور اس کے موضوع کو وقت کی بڑی ضرورت قراردیا۔ 
اجلاس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی واعظ مسجد نبوی نے کانفرنس کے موضوع کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی اور ائمہ مساجد کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل و مشکلات خواہ کتنی بڑی ہوں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے اور ہمیشہ نرمی اختیار کرنی چاہئے۔ تشدد اور اشتعال انگیزی خوارج کا طریقہ ہے۔ اسلام امن وشانتی کی تعلیم دیتا ہے اور ہر طرح کی بربریت اور ظلم و تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ 
اس اجلاس میں ’’محمد بن عبدالوہاب اور داعش سے برأت‘‘ ، تحر یک ختم نبوت ۲۴ ؍ویں جلد، تاریخ اہل حدیث ۷؍ ویں جلد، داعش کے خلاف اجتماعی فتویٰ پر مشتمل انگریزی مجلہ دی سمپل ٹروتھ، اردو مجلہ جریدہ ترجمان اور ہندی مجلہ اصلاح سماج کا خصوصی شمارہ ، علم المیراث، مدارس اہلحدیث دہلی، اسلامی اعتدال امن عالم اور فلاح انسانیت کا ضامن مجموعہ مقالات وغیرہ کتابوں کا اکابرین ملک وملت کے ہاتھوں اجراء بھی عمل میں آیا۔ نیز داعش وغیرہ کے خلاف علماء کرام کی خدمات کے اعتراف میں بلا تفریق مسلک ائمہ مساجد کو توصیفی سند سے بھی نوازا گیا۔ 
اخیر میں ملک وملت اور انسانیت کے مسائل سے متعلق بیس نکاتی قرار داد بھی منظور کی گئی۔ جس میں اس موقف کا اظہار کیا گیا کہ امامان دین قابل احترام ہیں اور ان کی شان میں کسی طرح کی گستاخی عقیدہ و منہج سلف کے منافی ہے۔ مساجد و مکاتب اور مدارس اسلامیہ میں ائمہ اور اساتذہ کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متولیان مساجد اور سماج کے مالدار طبقہ سے اپیل کی گئی کہ ان کو معقول تنخواہیں دی جائیں۔اسی طرح ملی تنظیموں اور ملی رہنماؤں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں ۔ اس لیے کہ اس میں عوام وخواص میں اختلا ف وانتشار کو ہوا ملتی ہے جو کہ کسی بھی طرح ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہے۔ اتحاد و اتفاق اور قومی یکجہتی کے فروغ اور کسی بھی طرح کی نفرت آمیزی سے گریز کی تلقین کرتے ہوئے کانفرنس میں سماج میں بڑھتے ہوئے اخلاقی بگاڑ، فساد ، اباحیت پسندی، شراب نوشی، اور شدت پسندی وغیرہ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بابت مرکزی حکومت کے موقف میں تبدیلی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اس کے مقصد قیام اور تاریخی پس منظر کے مد نظر اس کی اقلیتی کردار کو باقی رکھا جائے۔ نیز یونیورسٹیوں میں سیاسی تگ وتاز اور عمل دخل پر روک لگائی جائے۔ قرار داد میں دہشت گرد تنظیموں خصوصا داعش وغیرہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم سازش قرار دیا گیا۔ نیز داعش کے نام پر وطن عزیز میں ہونے والی گرفتاریوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملہ میں شفافیت لائے اور قرطاس ابیض جاری کرے۔ اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اور دہشت گردانہ واقعات میں ان کے ملوث ہونے کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور جیلوں میں بند نوجوانوں کے خلاف مقدمات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ اہل وطن کو ان کے خلاف الزامات کی حقیقت کا علم ہوسکے۔ 
قرار داد میں دہشت گردی اور داعش کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی طرف سے سب سے پہلے جاری اجتماعی فتویٰ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کانفرنس میں اسے دوبارہ جاری کئے جانے کی تحسین کی گئی۔ نیز ’’انسانیت کے فروغ اور پر امن معاشرہ کے تشکیل میں ائمہ وخطباء کا کردار اور ان کے حقوق ‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کے انعقاد کو وقت کی بڑی ضرورت قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی گئی۔ نیز ائمہ کرام کو قرآن وسنت کی روشنی میں ان کی بے لوث ملکی ، ملی اور انسانی خدمات کے لیے ہدیہ تبریک پیش کیا گیا اور تلقین کی گئی کہ وہ ملک ومعاشرہ کی تعمیرو اصلاح اور دہشت گردی وانتہاء پسندی کے خاتمے اور نئی نسل کو اسلام کی امن وآشتی پر مبنی تعلیمات سے روشناس کرانے اور بہترین رہنمائی کے لیے مزید متحرک و فعال ہوجائیں۔ 
قرار داد میں مشرقی وسطی خصوصا خلیجی ممالک میں امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے حکومت سعودی عرب کی تمام تر اصلاحی، تعلیمی اور رفاہی سرگرمیوں کی تائید و حمایت کی گئی اور خدمت انسانیت اور دہشت گردی کے خلاف اس کی کوششوں کو سراہا گیا خاص طو ر پر یمن میں دہشت گردوں کے سلسلہ میں بہترین حکمت عملی اور دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دینے میں ان کی مساعی جمیلہ کی تائید کی گئی اور ان کو بنظر استحسان دیکھا گیا ۔ اسی طرح حالیہ دنوں اہم ملی و جماعتی شخصیات کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا۔ 
اختتامی اجلاس تقریبا ۱۱؍ بجے شب تک جاری رہا۔ صدارت قاری نجم الحسن فیضی رکن شوریٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند(ممبئی) اور مولانا شمیم احمد ندوی ناظم اعلیٰ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال نے فرمائی ۔ نظامت مولانا انصار زبیر محمدی(ممبئی ) نے کی۔ ڈاکٹر عتیق اثر ندوی اور مولانا جمیل اختر شفیق تیمی وغیرہ شعراء نے دہشت گردی کے خلاف منظوم کلام پیش کئے۔ اس موقع پر مقالہ نگاران نے بھی بہترین مقالات بھی جمع ہوئے۔ ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے قرار داد کا متن پڑھ کر سنایا ۔ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے فردا فردا کلمات تشکر پیش کئے۔

۳۳؍ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے دوسرے دن مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت اور اظہار خیال۔
داعش وغیرہ پر خصوصی شمارہ کا اجراء
نئی دہلی: ۱۳؍مارچ ۲۰۱۶ء
ملک کے اندر موجود مختلف تنظیمیں چمن کے رنگ برنگے پھولوں کی طرح ہیں۔ اور یہ اپنے اپنے میدانوں میں قوم وملت اور انسانیت کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اور جب ملک وملت کوئی اہم مسئلہ اور چیلنج در پیش ہوتا ہے تو یہ ساری تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ ساری تنظیمیں ملک کے گنگا جمنا تہذیب کی نگہبان ہیں۔ ملک و انسانیت کو آج جب داعش وغیر ہ دہشت گرد تنظیموں سے خطرہ لاحق ہے تو اس کی روک تھام کے لیے مرکزی جمعیت کی دعوت اور پہل پر اکابرین ملک وملت جمع ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے کیا ۔ موصوف مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے زیر اہتمام ۳۳؍ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے دوسرے دن رام لیلا میدان میں پورے ملک سے آئے ہوئے جم غفیر سے خطاب کررہے تھے۔ انہو ں نے کہا کہ ائمہ کرام و خطباء عظام جو ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور وطن عزیز میں امن وشانتی کے پیامبر ہیں انہیں ملت وانسانیت کی خدمت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت و بیخ کنی کے تئیں مزید متحرک ہوکر اپنی خدمات پیش کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت سعودی عرب کا نظام اسلامی ہے اور وہ امن پر یقین رکھتی ہے۔
صوبائی جمعیت اہلحدیث گجرات کے ناظم مولانا شعیب میمن جوناگڈھی نے ائمہ وخطباء کو مزیدقوت وعمل کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء دنیا میں قابل عزت ہونے کے ساتھ آخرت میں بھی قابل تکریم ہوں گے۔ انہوں نے ائمہ وخطباء کے موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پرمرکزی جمعیت کے ذمہ داران کو مبارکباد دی۔
صوبائی جمعیت اہل حدیث بہارکے قائم مقام امیرمولانا خورشید عالم مدنی نے اتنی عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت کی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ملک وملت کے لئے بڑی اہمیت کا حامل اور ملک کے موجودہ حالات کا تقاضا ہے۔ 
مغربی بنگال کی صوبائی جمعیت کے ناظم مولانا سجاد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے دوررس اثرات پر اظہار یقین کیا اورائمہ وخطباء کے حوصلہ کی ستائش کی۔
ہریانہ کی صوبائی جمعیت اہل حدیث کے ناظم مولاناعبدالرحمن سلفی نے اس کانفرنس کے پیغام کو وسیع پیمانے پر پہنچانے اورعملی طورپر کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے مرکزی جمعیت کو مبارکباد پیش کیا۔
مولانا عبدالعلیم عمری نے کہا کہ یہ کانفرنس مساجد کے ائمہ اورخطیبوں کے لیے ایک بہترین نصیحت کا سامان ہے۔ انہوں نے ائمہ مساجدکی معمولی تنخواہوں پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دور خلافت میں ائمہ کی تنخواہیں فوجیوں کی تنخواہوں کے برابر ہوا کرتی تھیں۔
مولانا عبدالوہاب حجازی نے کہا اللہ کی یادہماری اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برائی مادہ پرستانہ سوچ کا نتیجہ ہے ۔ عدل وانصاف پوری دنیا کی تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
مسلم مجلس مشاورت کے صدرڈاکٹر نویدحامد نے کہا کہ یہ کانفرنس مسلمانوں کے دلوں کی آواز ہے اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگانے والوں کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ داعش کی پشت پناہی صیہونی طاقتیں کر رہی ہیں۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کا اعزاز ہے کہ وہ جیلوں میں پندرہ بیس سالوں تک قید رہنے کے باوجود آئین کی عزت اوراس پربھروسہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہندوستانی مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ ملک سے اپنا رشتہ مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے صدرمولانا عطاء الرحمن قاسمی نے کانفرنس کے موضوع کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ کانفرنس کا موضوع بڑا اہم ہے جس کی اہمیت کو جمعیت اہل حدیث نے محسوس کیا۔ قرآن نے یہ صاف پیغام دیا ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہندوستانی ثقافت اور رواداری کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ثقافت کو نظرانداز کرکے ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی حکومت اسی نقطہ نظر پر چل سکتی ہے جو قطب الدین ایبک نے قطب مینار پر قرآن کی آیت ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ لکھوا کر پیش کیا تھا اور سیکولرزم کی بہترین مثال قائم کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک وملت کے مسائل اور ضرورت کو مرکزی جمعیت پہلے محسوس کرتی ہے۔یہ کانفرنس اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔
پنڈت یوگل کشو ر شاستری ایڈیٹر ’’ایودھیا کی آواز‘‘ نے ذمہ داران جمعیت خصوصا مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اہل حدیث محبت سے اپنی بات شروع کرتے ہیں ان کے عادات و اطوار مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بیحد متاثر کیا۔ جبکہ فرقہ پرست اپنی گفتگو کا آغاز نفرت سے کرتے ہیں ۔ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے لئے انسداد دہشت گردی قانون بنایا گیا ہے ایک سازش کے تحت مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گرفتاری بند ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس امریکہ اورباطل طاقتوں کی دین ہیں۔اس سے مسلمانو ں کا کوئی تعلق نہیں۔
راجیہ سبھا کے ممبرپارلیمنٹ جناب سالم انصاری نے کہا کہ مذہب کے نام پر ہندومسلم کے بیچ دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور ان پر حکومت کی طرف سے قدغن لگانے کی کوشش نہیں ہورہی ہے ۔اتحاد واتفاق کی بقا کے بعدہی ملک باقی رہے گا۔انہوں نے گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کارویہ انتہائی غیرمنصفانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ائمہ وخطباء انتشارکوختم کرسکتے ہیں ان کوتقریر وخطابت میں زور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
ممبرپارلیمنٹ طارق انور نے کانفرنس کے موضوع کووقت اورحالات کے مطابق قراردیتے ہوئے کہا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس کا مقابلہ کرنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ فرقہ پرستی کسی بھی مذہب میں ہو وہ قابل مذمت ہے۔ کسی بھی مذہب میں دہشت گردی کی اجازت نہیں ہے۔ لوگ اپنے فائدے کے لئے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں ایسے لوگوں کے چہرہ کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جہاد کی غلط تشریح کرنے پرکڑی تنقید کی۔
جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سیدجلال الدین عمری نے کہا کہ انتشار ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر بکھراؤ نہ پیدا ہونے دیں اور اتفاق واتحاد پر زور دیں۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ اخوت وبھائی چارگی کے ساتھ رہو، قرآن نے متحدہونے کا سبق دیا اوریہ تلقین کی ہے کہ اگرمنتشررہوگے تونقصان اٹھاؤگے انہوں نے ائمہ وخطباء کو تلقین کی کہ امت کوکتاب وسنت کی اطاعت کی بنیاد پر متحد کیا جاسکتا ہے۔ قرآنی تعلیمات پرعمل نہ کرنے کے سبب ہم کمزور ہوئے ہیں ۔ائمہ وخطباء کی ذمہ داری ہے کہ ایسے حالات پیدا کریں کہ اتحاد واتفاق کی فضا پیدا ہو۔
جنتادل یوکے جنرل سیکریٹری اور ممبرپارلیامنٹ راجیہ سبھاکے سی تیاگی نے تقسیم ہند کے المناک باب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا قانون سب کویکساں حقوق عطا کرتا ہے ، انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت حالات ۱۹۴۷ء سے بھی زیادہ مختلف ہیں انہوں نے سامر اجی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی حالات اچھے نہیں ہیں۔ ہمارے جوہندو رواداری سے ہٹ کر شدت پسندی کی طرف چلے گئے ہیں ان کو واپس لانا ہمارا بھی کام ہے۔ ملک کی مذہبی روایات کو مخدوش کرنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس طرح کے رویہ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ 
ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سیدقاسم رسول الیاس نے کہا کہ آج ملک میں ہرکوئی پریشان ہے یہ صرف امت کا مسئلہ نہیں ہے ، ہم پردہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ آج ملک کے آدی واس ، کسان پریشان ہیں، پورا ملک پریشانی میں مبتلا ہے ۔آج خواتین عزت وعصمت کے لئے فکر مند ہیں اس ملک کی تعمیر میں ہمارا بھی رول رہا ہے۔ ہم کو اپنے خیر امت کا فریضہ نبھانا ہوگا ملک کے موجودہ بحران کے خاتمہ کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ہم یہ عہد کریں کہ ہم ناانصافی نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ امت کو انصاف کے لئے جمعیت کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔
پروفیسراخترالواسع کمشنر برائے اقلیتی السنہ حکومت ہند نیذمہ داران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے توپھر مسلک کے بارے میں کیونکر زور زبردستی ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ کتاب وسنت ہمارے عقیدہ کا محورہیں، خودغرضی پر چلنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تفرقہ بازی سے اوپر اٹھ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی اورداعش کے خلاف پہل پرمبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس امت کو اللہ کی تائید حاصل ہے ہم پوری انسانیت کی فلاح کے لیے کام کریں گے جواسلام کے نام پر دہشت پھیلارہے ہیں ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیاکے جنرل سیکریٹری جناب اتل کمار انجان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقوق دینا سرکاروں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہمیں ضروریات زندگی کہاں مل رہی ہے ، ترقی کا دعوی کیا جارہا ہے انہوں نے کہا اگرملک کی دولت کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی توغربت نہیں ختم ہوگی انہوں نے ہندوستان کی تاریخ کو بدلنے والوں کی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی ترقی میں سب کا رول رہاہے۔ حقوق کے لئے لڑائی جاری رہے گی۔
دارالعلوم دیوبند کے نمائندے مولانا مفتی راشد قاسمی صاحب نے ذکر کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین ذکر وہ ہے جو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا جائے۔ اس کے لئے ائمہ وخطباء کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ استنباط کریں اور اپنے مسلک کو ترجیح دینا فرض سے کوتاہی کے زمرے میں آتا ہے۔ 
ڈاکٹر سعید احمد مدنی نے ذمہ داران جمعیت کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک حساس موضوع کے انتخاب پر ان کی ستائش کی اورکہا کہ آپ نے ان لوگوں کو آوازدی ہے جن کا معاشرہ میں نمایاں کردار ہے ۔یہی ائمہ ہیں جنہوں نے دہشت گردی اور نامساعد حالات کا مقابلہ کیاہے۔
ڈاکٹر عبدالدیان انصاری پنجاب نے ذمہ داران جمعیت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ پہلی بار ائمہ وخطباء کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لئے آواز دی گئی ہے۔ انہوں نے متولیان مساجدسے ائمہ وخطباء کے احترام کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء قرآن وحدیث کی روشنی میں خطاب کریں اورمتولیان حضرات ائمہ کی اقتصادی صورت حال کا بھی خیال رکھیں۔
مدھیہ پردیش صوبائی جمعیت کے امیر مولانا عبدالقدوس عمری نے کہا کہ ہندوبیرون ملک جب بھی کسی فتنہ نے سرا بھارا ہے جمعیت اس کی سرکوبی کے لئے تیار رہی ہے۔ انہوں نے کہا مرکزی جمعیت نے ائمہ وخطباء کے موضوع پر کانفرنس کرکے بڑا کارنامہ انجام دے دیاہے۔
اس کانفرنس سے ٹی حمزہ، انڈمان نکوبار، صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی کے امیر مولانا عبدالستار سلفی، جناب شعیب انصاری، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث اڑیشہ نے خطاب کیا۔ آج کی پہلی نشست کے اختتام پر ناظم عمومی نے مہمانان گرامی و حاضرین کا تہہ شکریہ ادا کیا اور نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔

ملک وبیرون ملک کے اکابرعلماء کرام اور عمائدین ملک وملت کا خطاب
مسجد نبوی کے داعی ڈاکٹر سلیمان سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ رام لیلا میدان کل ظہر اورمغرب کی نماز پڑھائیں گے اورکانفرنس سے خطاب کریں گے ۔
نئی دہلی: ۱۲؍مارچ ۲۰۱۶ء
’’ائمہ کرام صلح وآشتی ، محبت و اخوت کے علمبردار ہیں۔یہ دہشت گردی اور فتنہ وفساد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ دنیا کے پالنہار سے بندوں کا رشتہ استوار کرتے ہیں ، اتحاد و یکجہتی کی تعلیم دیتے ہیں، قومی، ملی اور مسلکی تفریق مٹاتے ہیں یہ مصلحین قوم وملت حضرات ائمہ کرام پھر سے تیار ہوگئے۔ داعش اس ملک میں قدم نہیں رکھ سکے گا۔ ‘‘ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا موصوف آج یہاں دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دو روزہ عظیم الشان بین الاقوامی تینتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بعنوان ’’ انسانیت کے فروغ اور پر امن معاشرہ کی تشکیل میں ائمہ وخطباء کا کردار اور ان کے حقوق‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ آج پوری عالم انسانیت کو مختلف چیلنجوں ا ور مسائل کا سامنا ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ا ن مسائل کے حل کے لیے سرگر م عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن وشانتی کے علمبردار ہیں اور داعش اور اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کی مذمت کرتے ہیں۔ اپنے پر مغز کلیدی خطبہ میں ناظم عمومی نے پر زور انداز میں کہا کہ امام نظم و ضبط اور امن وسلامتی کا ضامن ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ داعش اس ملک میں قدم نہیں رکھ سکے گا۔ وہ اپنی ظلم وبربریت کی وجہ سے ہلاکو وچنگیز کی جماعت سے جاملا ہے۔ وہ ابن صبا اور خارجی وصبائی ٹولہ سے رشتہ استوار کرنے کی وجہ سے دہشت گردی کا منحوس طوق گلے میں ڈال چکا ہے۔ ایسی صورت میں ائمہ کرام کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ محبت ،نرم دلی، شفقت و مودت کا درس دیں۔ وہ جس دین کو ماننے والے ہیں وہ اسلام ہے۔ اس کے معنی امن وسلامتی کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ آپ اتحاد کا داعی بنیں۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں سب بھائی بھائی ہیں۔ جماعت اہل حدیث ہند کے جنگ آزادی میں قابل فراموش کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امامت کی اہمیت وضرورت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قابل اور باصلاحیت صحابہ کرام کو امام بننے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ 
ناظم عمومی نے فرمایا کہ امام معاشرے کا امین اور نگہبان ہوتا ہے۔اس تعلق سے چند تجاویز پیش کرتے ہوے کہا کہ نوجوانوں کی خصوصا تربیت اسلامی کریں جو ملک وملت اور انسانیت کے صالح ترین عنصر ہی نہیں بلکہ کل کے مرد میدان اور صالح رجال کار ہیں۔ وہ امن کے علمبردار بنیں اور فتنہ وفساد اور دہشت گردی وآتنگ واد کے درپے آزار ہوں۔ صادق وامین بنیں۔ 
کانفرنس کی مجلس استقبالیہ کے صدر مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے زندگی کے تمام گوشوں میں ایسی درخشندہ وتابندہ روایات چھوڑی ہیں جو ہماری روشن تاریخ کے سنہرے اوراق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اہل حدیث ایک ایسی تحریک ہے جو ہر دور میں انسانیت کو مختلف مسائل سے نجات دینے کے لیے کتاب وسنت کی روشنی میں رہنمائی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا آج ایک منظم سازش کے تحت یہودی لابی اور اس کے زیر اثر میڈیا کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور دہشت پسندی کو اسلام کی طرف منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی جارہی ہے ۔ یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام امن وشانتی کا دین ہے۔ اتحاد واتفاق کی فضا قائم کرنا ہمارا فرض ہے۔ 
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر حافظ محمد یحییٰ دہلوی نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ آج دنیا انتہائی پر آشوب دور سے گزر رہی ہے ، عدم رواداری اور عدم تحمل کا ماحول تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ہم اماموں کی خاموشی نیز دین اسلام کی خوبیوں کو غیروں تک نہ پہنچانے کا نتیجہ ہے کہ یہ فتنے ہمارے دروازوں پر دستک دینے لگے ہیں اور اسلام کی شبیہ کو بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسلام جوڑنے کا کام کرتا ہے توڑنے کا نہیں۔ داعش القاعدہ اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی سرگرمیاں و کارروائیاں اسلامی شریعت میں حرام اور مجرمانہ کام ہیں۔ ہم ان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ اور قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتے ہیں۔ امیر محترم نے اپنے خطبہ میں بہت ساری نصیحت آموز باتیں بیان فرمائیں۔ 
جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر کے ناظم اعلیٰ مولانا شیم احمد ندوی نے اپنے تاثرات میں ذمہ داران خصوصا مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارک باد دی اور موضوع کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کانفرنس کے انعقاد سے ملک میں امن و شانتی کا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں دہشت گردی،، خوں ریزی اور بے قصوروں کے قتل کی سخت خدمت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کی اصلاح کے لیے ائمہ اور خطباء کا بڑا اہم رول ہے۔ اورکردار سازی میں بہت نمایاں کردار ادا رکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم نے مساجد کے کردار کو محدود کردیا ہے جبکہ دور نبوی اور خلفاء راشدین کے دور میں صلح وآشتی اور امن وآشتی کے فیصلے کئے جاتے تھے۔ 
جامعہ سلفیہ بنارس کے ناظم اعلیٰ مولانا عبداللہ سعود نے اپنے تاثراتی کلمات میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو اس اہم کانفرنس کے بروقت انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ تمام انسانوں کا رب اللہ ہے۔ اس پیغام کو ہر کسی تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اللہ سے ہمارا رشتہ مضبوط ہونا چاہئے۔ ہندوستان ہماری جائے پیدائش ہے۔ اس کی حفاظت ترقی ہماری ذمہ داری ہے اور ہرحال میں اس ملک کی حفاظت کریں گے۔ 
ڈاکٹر محمد احمد قاضی کلچرل اٹیچی سفارت خانہ مصر نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ مساجد امن وشانتی کی علامت ہیں۔ نازک حالات میں ائمہ و خطباء کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ روابط بڑھانے ور حسن اخلاق کا مظاہر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہم پر فرض ہے اور ہم اسلام دشمن عناصر کو سمجھائیں کہ اسلام خیر خوا ہ ہے، اسلام ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ملک میں مختلف مسائل کے ازالہ میں ائمہ وخطباء اہم رول ہمیشہ ادا کرتے رہے ہیں۔ ائمہ کرام کے لیے میراناصحانہ مشور ہے کہ وہ شخص بن کر نہ جئیں بلکہ شخصیت بن کر رہیں۔ کیوں کہ شخص مرجاتا ہے اور شخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مساعی مشکور ہیں اور ائمہ مساجد کے عنوان پر کانفرنس کے انعقاد کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ 
حافظ عتیق الرحمن طیبی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی نے کہا کہ حقوق اللہ حقوق العباد کے بغیر ادا نہیں ہوسکتا۔ امن وامان قائم رکھنا بندوں کا حق ہے۔ بد امنی ظلم ہے۔ اپنی بنیاد سے جڑ کر رہیں۔اختلاف سے بچیں میں آپ سبھی کو نصیحت کرتا ہوں کہ مرکز کے ساتھ جڑ کر رہیں۔ 
شیخ فیصل عبدالقادر صحراوی نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اللہ کا یہی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں۔ سماج کے ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ دہشت گردی بہت بڑی لعنت ہے۔ 
دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے مہتمم ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی نے ائمہ وخطباء کے حوالہ سے اتنی عظیم الشان کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارکباد دی ۔ شرک سب سے بری چیز ہے اور اصلاح معاشرہ میں امام کا کردار اہم ہے۔ 
آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے صدر مولانا عمیر الیاسی نے اتنے بڑے پیمانے پر اس قدر اہم موضوع پر کانفرنس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہہ ہمارا مقصد اتحاد ہے ، ہم سب ایک ہیں۔ ہماری شناخت جو ٹوپیوں اور پگڑیوں سے ہے اس کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کی خالص تعلیمات کے ذریعہ ہونی چاہئے۔ ہمارے قائدین اپنی پہچان پر توجہ دیتے ہیں جب کہ اسلامی تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ 
مولانا زاہد رضا رضوی سابق چیئرمین اتراکھنڈ حج کمیٹی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی یہ امتیازی شان ہے کہ وہ اپنی ہر کانفرنس کے لیے ایک نیا، اچھوتا، ملت کی نبض کو ٹٹولتا ہوا اور سلگتے مسائل کی طرف ملت کی توجہ دلانے والا ہوتا ہے۔ اس کانفرنس کا عنوان بڑا اہم ہے۔لہذا ائمہ کرام کو اپنی ذمہ داری کی طرف مزید متوجہ ہونے کی ضرورت ہے اور اتحاد و اتفاق ضروری ہے۔ دشمن ہمیں لڑا نا چاہتا ہے۔ 
ڈاکٹر سلیمان نے اپنے تاثر میں کہا کہ ائمہ حضرات لوگ کی پرامن انداز میں تربیت کریں۔ ان کے ساتھ خیر خواہانہ طریقے سے پیش آئیں۔ حکمت سے اپنی دعوت کو پیش کریں۔ اختلاف کو مٹائیں۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرہ میں پائے جانے والے فکری انحراف کو ختم کرنے کوشش کریں۔ 
اس موقوع پر دہشت گردی اور داعش کے خلاف مرکزی جمعیت کے فتویٰ کا دوبارہ اجراء ہوا جو کہ جریدہ ترجمان کے خصوصی شمارہ میں شائع کیا گیا ہے۔ 
مولانا عبدالشکور اثری نے کہا کہ مسلمان اپنا فرض امر بالمعروف نہیں ادا کرتے۔ دہشت گردی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ مرکز سے الگ ہونا کٹی پتنگ کے مثل ہے۔ 
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء پر منعقد ہونے والی یہ کانفرنس بہت اہم ہے۔ اس کے لیے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ 
واضح رہے کہ کل ظہر اورمغرب کی نماز کی امامت مسجد نبوی کے سینئرمدرس ڈاکٹر سلیمان سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ خطاب فرمائیں گے۔
مجلس کی نظامت مولانا خورشید عالم مدنی قائم مقام امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار نے کی اور قاری صغیر احمد سلفی کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا۔

دہلی،۹۲/جنوری۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنی ایک پریس ریلیز میں معروف عالم دین،مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے سابق نائب ناظم اورپندرہ روزہ ترجمان کے نائب مدیر،مولاناعبدالعلیم ماہر کے سانحہئ ارتحال پر اپنے شدیدرنج وغم کا اظہار فرمایاہے اور ان کی موت کو ملک وملت، جماعت اورعلمی دنیا کا عظیم خسارہ قرار دیاہے۔مولانا کافی عرصہ سے علیل تھے اور ممبائی میں زیر علاج تھے بالآخرآج ساڑھے گیارہ بجے صبح بعمر۲۷ سال اس دار فانی سے رحلت فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
ناظم عمومی نے کہاکہ مولانا ۲۲/جنوری ۴۴۹۱ء کو موجودہ ضلع سدھارتھ نگرکی مردم خیز بستی سمرا میں پیداہوئے۔ مکتب کی تعلیم مدرسہ اسلامیہ کمہریامیں اورعربی تعلیم جامعہ سراج العلوم بوندیہاراورجامعہ سراج العلوم جھنڈانگر میں حاصل کی پھرمظاہر العلوم سہارنپور میں کسب فیض کیا اور دارالعلوم دیوبندسے سند فراغت حاصل کی۔حصول تعلیم کے بعد دارالعلوم یوسفیہ ناگپور،جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر، مدرسہ شمس العلوم سمرا، مدرسہ دارالتوحید میناعیدگاہ،جامعہ سراج العلوم بونڈیہار،مدرسہ دارالعلوم محمدیہ سورت، جامعہ خیرالعلوم ڈمریاگنج اورجامعہ ریاض العلوم دہلی وغیرہ میں طویل عرصہ تقریبا پینتالیس سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔آپ کی تدریسی خدمات کے علاوہ دعوتی خدمات بھی برابر جاری رہیں خطبات جمعہ نیز دینی ودعوتی اجتماعات میں برابر اپنی تقاریر سے خلق اللہ کو مستفیض فرماتے رہے۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندسے ایک عرصہ وابستگی رہی اور جمعیت کے ناظم اعلیٰ مولاناعبدالحمید رحمانی ومولانا عبدالسلام رحمانی کے دور نظامت میں نائب ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اورملک کے مختلف صوبوں کے تنظیمی ودعوتی دورے کئے۔آپ کی صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں مرکزی جمعیت کے آرگن پندرہ روزہ ترجمان کے نائب مدیر رہے اور مختلف کالم تحریر فرماتے رہے علاوہ ازیں مقالات ومضامیں کی تحریر کا سلسلہ بھی جاری رہا۔آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں تذکرۃ المشاہیر،گلہائے رنگ رنگ،نغمات اسلام(منظوم)قابل ذکر ہیں۔
ناظم عمومی نے کہاکہ مولاناماہر صاحب ایک تجربہ کار مدرس، شعلہ بیاں خطیب اور حق گو وبے باک داعی تھے۔منقولات کے علاوہ معقولات پر اچھاعبور تھا اورحدیث وتفسیراوردینی مسائل پر بھی گہری نظر تھی۔ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری جماعت وملت کا زبردست خسارہ ہے جس کی تلافی بظاہر مشکل نظر آتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندنے مولانا کی ہمہ جہت علمی ودعوتی خدمات کے اعتراف میں ان کوتیسویں آل انڈیا اہل حدیث تاریخی کانفرنس بمقام دہلی کے موقعہ پر ایوارڈ سے نوازاتھا۔
پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک لڑکا اور متعددلڑکیاں ہیں۔تدفین بعد نماز عشاء ممبائی ہی میں عمل میں آئیگی۔
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر حافظ محمدیحيٰ دہلوی، نائب امیرحافظ عبدالقیوم،ڈاکٹرسید عبدالعزیز سلفی، شیخ حافظ عین الباری عالیاوی، ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز،نائب ناظم مولانا ریاض احمد سلفی ودیگر ذمہ داران واراکین عاملہ وشوریٰ وکارکنان نے بھی مولانا کے پسماندگان سے قلبی تعزیت کی ہے اور دعاگوہیں کہ بار الٰہ ان کی لغزشوں سے درگذرفرما،حسنات کو شرف قبولیت بخش اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔آمین

دہلی،۳۲/جنوری۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی جناب مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے گذشتہ دنوں چار پڑوسی ملک پاکستان کے چارسدہ کی باچاخان یونیورسٹی میں ہوئے دہشت کردانہ حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ا نتہائی ظالمانہ اورافسوسناک قراردیاہے نیز کہاہے کہ دہشت گردی بہرحال دہشت گردی ہے اور لائق مذمت ہے چاہے جہاں بھی انجام دی جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس طرح کی کارروائیوں کی کوئی بھی مذہب یا سماج اجازت نہیں دے سکتا۔ان سماج و انسانیت دشمن بدبختانہ کارروائیوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
ناظم عمومی نے اپنااخباری بیان جاری رکھتے ہوئے مزید کہاکہ اس بزدلانہ کارروائی کاسب سے افسوسناک پہلو یہ کہ اس میں ایک تعلیمی ادارہ کو نشانہ بنایاگیاہے جس کی حیثیت انسانیت ساز فیکٹری کی ہے اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور اساتذہ پوری قوم اور انسانیت کا بیش قیمت اثاثہ ہیں چنانچہ سنگین سے سنگین حالات میں بھی ان کے ساتھ اس طرح کی بربریت کا مظاہرہ کرنا انسانیت کے خلاف گھناؤنی سازش ہے۔ بنابریں ہم اس تخریبی کارروائی کی سخت سے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اسے ناقابل معافی جرم تصور کرتے ہیں۔ ناظم عمومی نے اپنی پریس ریلیز میں معصوم جانوں کے اتلاف پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا اور مہلوکین کے پسماندگان کے ساتھ اظہار تعزیت اور متاثرین سے اظہارہمدردی کیا ہے۔

۳۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کو کا میاب تر بنانے کاعزم اور جوش و خرو
اہم ملی،ملکی اورجماعتی مسائل پر غوروخوض
نئی دہلی:۷۱/جنوری۶۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج اہل حدیث کمپلیکس،اوکھلا،نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ امیرجمعیت محترم حافظ محمدیحيٰ دہلوی حفظہ اللہ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے تمام صوبوں سے تشریف لائے موقر اراکین عاملہ اور صوبائی جمعیات کے ذمہ داران نے شرکت کی۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے جملہ شعبہ جات کی ہمہ جہت دینی، دعوتی، تعلیمی، اشاعتی، علمی، تحقیقی، رفاہی وانسانی خدمات اور سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی اور ناظم مالیات جناب الحاج وکیل پرویز صاحب نے آمد و صرف کا تفصیلی حساب کتاب پیش کیا جن پر موقر مجلس عاملہ نے اطمینان و خوشی کا اظہارفرمایا۔میٹنگ میں جمعیت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیااور آئندہ دعوتی،تعلیمی، تنظیمی اوررفاہی منصوبوں کے بارے میں غوروخوض کیا گیا اور داعش وغیرہ کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی کڑی مذمت کی گئی اور دہشت گردی کو وطن عزیز کے لیے خصوصاً اور پوری انسانیت کے لیے عموما عظیم خطرہ اور ناسور قرار دیا گیا۔
میٹنگ میں بطور خاص مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ۲۱-۳۱/مارچ ۶۱۰۲ء کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ۳۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیاگیا اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔ پریس ریلیز کے مطابق شرکاء اجلاس نے کانفرنس کے تئیں کافی جو ش و خروش کا مظاہرہ کیا اور اسے ہر طرح سے کامیاب بنانے کا عزم کیا۔
پریس ریلیز کے مطابق جماعتی امور،ملکی،عالمی اور ملی مسائل پرتبادلہ خیال کیا گیا اورملک وملت اورعالمی مسائل سے متعلق قرار داد اور تجاویز پیش کی گئیں۔مجلس عاملہ کی قرارداد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی سے متعلق درخواست کو واپس لئے جانے کوافسوسناک اور اس کواقلیت مخالف قرار دیا گیا ہے علاوہ ازیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے چھیڑ چھاڑسے گریز کرنے اوراس کے اقلیتی کردار کوباقی رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ قرارداد میں ۳۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کو موجودہ ملکی اور عالمی تناظر میں اہم اور ضرور ی قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں ملی تنظیموں اور ادارو ں کو اتحاد واتفاق کی فضا بنائے رکھنے اور انتشار وافتراق سے دوررہنے کی ضرورت پر زوردیا گیا۔ اسی طرح سے پٹھان کوٹ ایربیس پر حملہ کی شدید مذمت اور بے قصور نوجوانوں کو ضمانت پر رہا کرنے اوران کو مناسب معاوضہ دینے اور تخریبی واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں بیف کے نام پر وطن عزیز کی پرامن فضا کو مکدر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کاپرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
مجلس عاملہ نے ایران میں سعودی سفارت خانہ پر حملہ کی پرزور مذمت کی اور سعودی حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کوحق بجانب قرار دیا اور مسئلہ فلسطین کے حل کے سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کے لئے عالمی برادری سے اپیل کی اورپیرس کے دہشت گردانہ واقعہ کی مذمت کی گئی اورچنئی سیلاب متاثرین سے اظہارہمدردی کیاگیاہے۔ عاملہ نے اہم شخصیات کے انتقال کو جماعت وملت کا بڑا خسارہ قرار دیاہے۔

۳۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کو کا میاب تر بنانے کاعزم اور جوش و خرو
اہم ملی،ملکی اورجماعتی مسائل پر غوروخوض
نئی دہلی:۷۱/جنوری۶۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج اہل حدیث کمپلیکس،اوکھلا،نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ امیرجمعیت محترم حافظ محمدیحيٰ دہلوی حفظہ اللہ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے تمام صوبوں سے تشریف لائے موقر اراکین عاملہ اور صوبائی جمعیات کے ذمہ داران نے شرکت کی۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے جملہ شعبہ جات کی ہمہ جہت دینی، دعوتی، تعلیمی، اشاعتی، علمی، تحقیقی، رفاہی وانسانی خدمات اور سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی اور ناظم مالیات جناب الحاج وکیل پرویز صاحب نے آمد و صرف کا تفصیلی حساب کتاب پیش کیا جن پر موقر مجلس عاملہ نے اطمینان و خوشی کا اظہارفرمایا۔میٹنگ میں جمعیت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیااور آئندہ دعوتی،تعلیمی، تنظیمی اوررفاہی منصوبوں کے بارے میں غوروخوض کیا گیا اور داعش وغیرہ کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی کڑی مذمت کی گئی اور دہشت گردی کو وطن عزیز کے لیے خصوصاً اور پوری انسانیت کے لیے عموما عظیم خطرہ اور ناسور قرار دیا گیا۔
میٹنگ میں بطور خاص مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ۲۱-۳۱/مارچ ۶۱۰۲ء کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ۳۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیاگیا اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔ پریس ریلیز کے مطابق شرکاء اجلاس نے کانفرنس کے تئیں کافی جو ش و خروش کا مظاہرہ کیا اور اسے ہر طرح سے کامیاب بنانے کا عزم کیا۔
پریس ریلیز کے مطابق جماعتی امور،ملکی،عالمی اور ملی مسائل پرتبادلہ خیال کیا گیا اورملک وملت اورعالمی مسائل سے متعلق قرار داد اور تجاویز پیش کی گئیں۔مجلس عاملہ کی قرارداد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی سے متعلق درخواست کو واپس لئے جانے کوافسوسناک اور اس کواقلیت مخالف قرار دیا گیا ہے علاوہ ازیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے چھیڑ چھاڑسے گریز کرنے اوراس کے اقلیتی کردار کوباقی رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ قرارداد میں ۳۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کو موجودہ ملکی اور عالمی تناظر میں اہم اور ضرور ی قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں ملی تنظیموں اور ادارو ں کو اتحاد واتفاق کی فضا بنائے رکھنے اور انتشار وافتراق سے دوررہنے کی ضرورت پر زوردیا گیا۔ اسی طرح سے پٹھان کوٹ ایربیس پر حملہ کی شدید مذمت اور بے قصور نوجوانوں کو ضمانت پر رہا کرنے اوران کو مناسب معاوضہ دینے اور تخریبی واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں بیف کے نام پر وطن عزیز کی پرامن فضا کو مکدر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کاپرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
مجلس عاملہ نے ایران میں سعودی سفارت خانہ پر حملہ کی پرزور مذمت کی اور سعودی حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کوحق بجانب قرار دیا اور مسئلہ فلسطین کے حل کے سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کے لئے عالمی برادری سے اپیل کی اورپیرس کے دہشت گردانہ واقعہ کی مذمت کی گئی اورچنئی سیلاب متاثرین سے اظہارہمدردی کیاگیاہے۔ عاملہ نے اہم شخصیات کے انتقال کو جماعت وملت کا بڑا خسارہ قرار دیاہے۔

امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندحافظ محمد یحییٰ دہلوی، ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز ودیگر ذمہ داران کا تعزیتی پیغام
دہلی،۸ستمبر۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر حافظ محمد یحییٰ دہلوی،نائب امیرشیخ عین الباری عالیاوی، ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز، نائب نظماء حافظ محمدعبدالقیوم و مولانا ریاض احمد سلفی ودیگر ذمہ داران نے اخبار کے نام جاری ایک مشترکہ بیان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانااصغر علی امام مہدی سلفی کی والدہ کے سانحہ انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے اورجملہ پسماندگان ومتعلقین سے اظہار تعزیت کیاہی۔
!اخباری بیان میں کہاگیاہے کہ آج دوپہرپونے بارہ بجے طویل علالت کے بعدبرندابن،ضلع مشرقی چمپارن (بہار) میںبعمر ۵۷سال ان کا انتقال ہوگیا ۔موصوفہ ایک دیندار،تہجد گذار،نیک دل، مہمان نواز اور فرض شناس خاتون تھیں۔اللہ تعالیٰ کی توفیق پھران کی حسن تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ مولانا اصغر علی سلفی جیسا عالم دین اورقائد جمعیت وجماعت کو ملا جس نے قوم وجماعت کی خدمت میں اپنی پوری توانائی صرف کردی اوردینی، علمی،تعلیمی ،تربیتی،دعوتی،تنظیمی اورسماجی وغیرہ ہر میدان میںبیش بہاخدمات انجام دے رہے ہیںجوموصوفہ کے لئے بھی صدقہ جاریہ ہوگا۔ان شاء اللہ
ان کی وفات سے پورا خاندان اورپوری بستی ہی نہیں بلکہ پوری جماعت ومتعلقین غم واندوہ میں ڈوب گئے ہیں۔انہوں نے ہمیشہ اپنے فرزندارجمند کوآگے بڑھنے کی ہمت وحوصلہ دیا اور نیک خواہشات اور دعاؤں سے نوازا۔غم واندوہ کی گھڑی میں تمام ذمہ داران وکارکنان جمعیت ان کے اہل خانہ ومتعلقین کے ساتھ ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگذرفرمائی،حسنات کو شرف قبولیت بخشے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائی۔آمین یا رب العلمین
پسماندگان میںتین صاحبزادے دوصاحبزادیاںاور ان کی اولادہی۔محترم ناظم عمومی انتقال کی خبر سنتے ہی دہلی سے اپنی آبائی بستی برندابن،ضلع مشرقی چمپارن کے لئے روانہ ہوگئے ہیں تدفین کل ساڑھے دس بجے صبح عمل میں آئے گی ۔
جاری کردہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام سولہواںکل ہند مسابقہ قرآن کریم بحسن و خوبی اختتام پذیر
اول پوزیشن حاصل کرنے والے بعض طلبہ کا روح پرورمظاہر ہ قرأت اور اہم شخصیات کے گراں قدرتاثرات
دہلی:۱۳اگست ۔قرآن کریم کے حفّاظ کرام ،ملت اسلامیہ کا سرمایۂ افتخار ہیںاوروہ سب سے اعلیٰ وارفع درجے پر فائز ہیں ان کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے ۔جو قوم کتاب اللہ سے جڑی ہوئی ہواس کے مفاہیم وتقاضوں کو سمجھتی ہواور اس پر عمل پیراہو وہ روئے زمین پر سب سے زیادہ معزز اور سعادت مندقوم ہے نیز قرآن کریم مضطرب انسانیت کے لئے امن واطمینان کا ابدی پیغام ہی۔قرآن و حدیث سے براہ راست تعلق بڑے شرف و سعادت کی بات ہے اور اس کی ہمہ جہت خدمت قسمت والوں کو حاصل ہوتی ہے ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ملک کی پہلی تنظیم ہے جس نے اس کی نشرو اشاعت مقامی زبانوں میں ترجمہ وتفسیر اور مسابقہ کے ذریعہ نونہالان ملت میں اس کے حفظ وتجویدوتفسیر کا شوق پیداکرکے نمایاں کردار اداکیاہی۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے سولہویں کل ہندمسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم کے اختتامی اجلاس منعقدہ ۰۳ اگست بمقام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دہلی زیر صدارت حافظ عتیق الرحمن طیبی حفظہ اللہ کے حاضرین سے خطاب کررہے تھی۔

Page 1 of 2

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…