امن وشانتی، رواداری، قومی یکجہتی،آپسی بھائی چارہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

دہلی: ۹۲دسمبر ۷۱۰۲ء

اسلام امن وشانتی کامذہب ہے، وہ رواداری، قومی یکجہتی اور بھائی چارہ کے فروغ کا سب سے بڑا علمبردار رہا ہے۔ اسلام سراپا دین رحمت ہے، وہ ہر قوم ووطن میں اور پوری انسانیت کے لیے امن وشانتی چاہتا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ امن وشانتی ، رواداری اور آپسی بھائی چارہ کی رہی ہے قرآ ن وسنت میں جگہ جگہ نرم دلی اور رحم وکرم کی تعلیم دی گئی ہے۔ کتاب وسنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامنے سے ہی ان تمام چیزوں کا دور دورہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے ندوة المجاہدین کے زیر اہتمام منعقدہ چار روزہ آل کیرل کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم نے خطبہ مسنونہ کے بعد سرکردہ سماجی، سیاسی اور علمی شخصیات کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان اپنے کام کی شروعات بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ذریعہ کرتا ہے جس میں رحم و کرم کی تعلیم دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کانفرنس کی شروعات اس پروردگار عالم کے نام سے کررہے ہیں جس کے نام میں امن وسلامتی کی دعا ہے اور اس کے نام کا مطلب ہی ہے امن وسلامتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم اس اللہ کے نام سے اس کانفرنس کی شروعات کررہے ہیں جس کے ذریعہ ہم دار السلام یعنی جنت میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور سلام سلام جنت والوں کا کلام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ملک میں امن وشانتی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر آواز بلند کررہی ہے۔کانفرنسوں، سیمیناروں، سمپوزیم، فتوے اور دیگر وسائل کے ذریعہ دہشت گردی اور داعش جیسے دہشت گرد تنظیموں کی تخریبی سرگرمیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کی تاریخ روادار ی اور اخوت کی رہی ہے۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح وسمجھوتہ اور امن وشانتی کی اہمیت وافادیت اور دوسروں کے ساتھ رواداری کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آج بھی کوئی حلف الفضول جیسے معاہدہ کی بات کرتا ہے تو ہم اس طرح کے معاہدہ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف الفضول میں شامل ہوکر یہ پیغام دیا ہے کہ جب امن وشانتی کی بات آئے اور انسانیت کی فلاح وبہبود کی بات ہو تو ہم تمام مسلمانوں کو اس میں پیش پیش رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کی رواداری کی سب سے روشن مثال صلح حدیبیہ بھی ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے بے مثال رواداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے اسلاف مولانا ابوالکلام آزاد، سید احمد خان، سید نذیر حسین محدث دہلویؒ اور تمام علماءمصلحین اپنے زمانے میں امن وشانتی، بھائی چارہ، قومی یکجہتی اور رواداری کے علمبردار رہے ہیں۔ اور کانفرنس اور دیگر پلیٹ فارموں سے ہم نے قومی یکجہتی کا سب سے زیادہ ثبو ت اور فروغ دیا ہے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اس چار روزہ آل کیرل کانفرنس میںمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے شرکت کی۔اس کانفرنس سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے خازن جناب الحاج وکیل پرویز اور دیگر مذاہب کے رہنماﺅں میں سوامی اگنی ویش اور سابق مرکزی وزیر قانون جناب سلمان خورشید نے خطاب کیا۔

اس کانفرنس میں کیرل کے بعض ممبران اسمبلی اور وزراءنے اور مختلف دھرم ومذاہب کے لوگوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس چار دن تک جاری رہے گی۔

جاری کردہ

مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند