مرکزکی سرگرمیاں

پورے ملک سے بڑی تعداد میں اراکین عاملہ ومدعوئین خصوصی نے شرکت کی۔ملک وملت اورانسانیت سے متعلق متعدداہم مسائل زیر غورآئی۔اکتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بعنوان :عدالۃ الصحابہ کے انعقادکووقت کی ضرورت اورکامیاب ترین کانفرنس قرار دیا ۔امام حرم کی تشریف آوری کے لیے مرکزی ذمہ داران کو مبارکباد پیش کیا۔ مالیات کی رپورٹ پراطمینان کا اظہارفرمایا۔


بعنوان :’’ عدالت صحابہ ؓ ،صحابہ کرامـاخلاق وکردار کے حقیقی معیاراورانسانیت کے سچے معمار
بمقام: رام لیلا گرائونڈ نئی دہلی ، تاریخ ۲ـ۳مارچ ۲۱۰۲ء جمعہ و سنیچر

بلاشبہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ، ہندوستان کی اسلامی تنظیموں میں ایک فعال اور متحرک تنظیم ، اور جماعت اہل حدیث کا ایک متحدہ پلیٹ فارم ہی۔ صحیح اسلامی دعوت، عقیدہ اور منہج کی نشرو اشاعت میں اپنے قیام تاسیس سے آج تک نشیط و سرگرم ہی۔ اس نے اسلام اور اس کی بیش قیمت تعلیمات کے دفاع میں ، جرائد و مجلات اور مختلف زبانوں میںدینی کتابوں کی اشاعت کے میدان میں اہم کردار ادا کیا ہی۔ دینی اجتماعات، مسلمانوں کے مسائل ،ملی مسائل،ملکی اور غیر ملکی مسائل پرندوات، دعوتی واصلاحی اور تربیتی پروگرام، ریفریشر کورس، جلسے اور کانفرنس ملکی پیمانے پر منعقد کرنے میں بڑی فعالیت کا ثبوت دیا ہی۔ ابھی حال ہی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث نے تین بڑی کانفرنس منعقد کی ۔ سب سے پہلی’’ انسانی مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں ‘‘کے عنوان پر شہر پاکوڑ جھاڑکھنڈ (۴۰۰۲ئ) میں، دوسری ’’اسلام کا پیغام عالم انسانیت کے نام ‘‘کے عنوان پر وادی امن رام لیلا گرائونڈ ۸۰۰۲ء میں، اور تیسری ’’عظمت صحابہ رضی اللہ عنہم ‘‘کے عنوان پراپریل ۰۱۰۲ ء کو رام لیلا میدان نئی دہلی میں ۔ ان عظیم الشان کانفرنسوں کے علاوہ مرکزی جمعیت نے ملکی سطح پر صوبائی جمعیتوں کے تعاون سے مختلف خطوں میں تنظیمی کنونش کا انعقاد کر کے جماعت کو منظم کرنے کی بھر پور سعی کی اور علماء کرام کو حرکت و نشاط کی راہ پر لانے کے لئے علماء کنونشن بھی منعقد کیا۔ دہشت گردی، مدارس اسلامیہ اور شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی دعوت کے نام پر سمپوزیم منعقد کی۔ خصوصا ملتقی العلماء والدعاۃ، مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم، آل انڈیا ریفریشر کورس یہ سب پروگرام مرکزی جمعیت کی تعلیمی، دعوتی فعالیت اور حرکت ونشاط کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مرکزی جمعیت کے ان پروگراموں سے ملک میں بیداری آئی، جماعت حقہ کے امتیازی اوصاف نمایاں ہوئی، مرکزی جمعیت کا ملکی و عالمی پیمانے پر تعارف ہوا، اسلامی تعلیمات کی خصوصیات واضح ہوئیں، اسلام اور مسلمانوں کے تئیں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے ازالے میں مدد ملی، امت مسلمہ بدعات وخرافات کے دلدل سے نکل کر کتاب وسنت کے چشموں سے سیراب ہونے میں کامیاب ہوئی۔ صحیح دعوت عام ہوئی، اسلام کے لیے سازگار فضا قائم ہوئی۔ غیر مسلمین امن وشانتی والے دھرم کی خوبیوں کا دلی طور پر معترف ہوئی۔ اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں ان کا ازالہ ہوا۔آج عالم انسانیت سسک رہی ہی۔اور ہر سطح پر مادیت ودنیاداری  اور اس سے پیدا ہونے والے جرائم و مشکلات بڑھ رہے ہیں ،حالانکہ آج بھی اسلامی تعلیمات موجود ہیں  اور حتی الامکان اس کی دعوت بھی دی جاتی ہی،مگر اس کے صحیح ثمرات معاشرہ وملک پر مرتب نہیں ہوپارہے ہیں حالانکہ یہی تعلیمات صھابہ کرام لے کر آئے تھی۔

آخر میں دینی وسماجی، قومی وملی اور عالمی و انسانی امور پر ۲۳نکاتی قرارداد پاس کی گئی
 نئی دہلی : ۳ مارچ ۲۱۰۲ء
 امام کعبہ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ نے عدالۃ الصحابہ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے صحابہ کرام کی فضیلت قرآن وسنت کی روشنی میں بیان فرمائی اور کہا کہ صحابہ کرام کی طرف انگلی اٹھانا در اصل دین کی تنقیص اور دین کا کفر ہے ۔
صحابی کی تعریف میں مہاجرین ، انصار اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیلت کہیں تفصیل سے اور کہیں اجمالا بیان فرمائی۔ اور وضاحت سے فرمادیا ہے کہ’’رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ‘‘» اللہ ان سے راضی ہوا اوروہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئی«۔

امام محترم نے اہل حدیث کمپلیکس اوکھلانئی دہلی،میں نماز عشاء کی امامت فرمائی
ہزاروں فرزاندان توحید نے ان کی اقتداء میں نمازادا کی
جماعت اہل حدیث کامنہج مشکاۃ نبوی سے مستنیرہے اس میں بدعات وخرافات کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اہل حدیث ہی کتاب وسنت کے حقیقی پیروکارہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار خانہ کعبہ کے امام سماحۃ الشیخ سعودبن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ نے کیا ۔ موصوف گزشتہ شب اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی میں نماز عشاء سے قبل سامعین کے بڑے مجمع سے خطاب کررہے تھی۔ انہوںنے اپنے خطاب میں منہج سلف کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ اہل حدیث اس راستے پر گامزن ہیں جس پر صحابہ کرام عمل پیرا تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج ومعاشرہ کے اندر کتاب وسنت کو عام کیا جائی۔ اس سے اخوت وبھائی چارہ قائم ہوسکتا ہے اورمثالی انسانی معاشرہ کی تشکیل عمل میں آسکتی ہی۔
امام محترم نے اپنے خطاب کے بعد عشاء کی نماز پڑھائی۔ اورہزاروں مسلمانوں نے ان کی اقتدا میں چہارگانہ ادا کی۔ اس سے پہلے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے امام محترم کا استقبال کیا اور خیرمقدمی کلمات کہے اوران کی آمدکومسلمانان ہندکے لئے بڑی سعادت قراردیا۔ اورامیر محترم اورناظم عمومی نے امام محترم کی خدمت میں ہدائے پیش کےی۔ اس موقع پر موقر اراکین مجالس عاملہ وشوری مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور ذمہ داران کے ذیلی جمعیات اوردہلی کی اہم شخصیات موجودتھیں۔

Page 1 of 3

ہمارے رسائل وجرائد

http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…