جمعیت کا ایشو عدلیہ میں پہنچانے کے ذمہ دارالزام دینے والے خودہ

دہلی،۲اپریل۔ ۳۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرمحترم حافظ محمدیحيٰ،ان کے نائبین ڈاکٹر سیدعبدالحلیم، مولاناحافظ شیخ عین الباری عالیاوی، جناب الحاج وکیل پرویز ناظم مالیات اورمولانا ریاض احمدسلفی نائب ناظم مرکزی جمعیت اور مجلس عاملہ کے ارکان مولاناعبدالقدوس عمری امیرصوبائی جمعیت اہل حدیث مدھیہ پردیش، حافظ عبدالقیوم ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش، مولانامحمدہارون سنابلی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی، جناب، غلام رسول ملک و عبدالرحمن بٹ امیر وناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث جموں وکشمیر وغیرہم کی مشترکہ پریس ریلیز میں گذشتہ دنوں ایک اردو روزنامے میں شائع خبر کی شدیدالفاظ میں تردید ومذمت کی گئی ہے جس میں مرکزی جمعیت کے ناظم عمومی پر یہ الزام لگایاگیاہے کہ انہوں نے جمعیت کا ایشوعدلیہ میں پہنچاکرناعاقبت نااندیشی کا ثبوت دیاہی۔ درحقیقت ناظم عمومی کا یہ اقدام نہیں ہے بلکہ مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ میں مرکزی جمعیت کے ذمہ داران اورجملہ ارکان عاملہ وذمہ داران صوبائی جمعیات کا مشترکہ فیصلہ تھا جس کی تعمیل کی گئی ہی۔ نیز یہ کہ یہ دعویٰ انتشار اور غلط فہمی پھیلانے پر روک لگانے اور حکم امتناعی کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ جمعیت کا غلط استعمال نہ کریں ۔ اراکین عاملہ نے اس بات کی بھی سخت الفاظ میں تردیدکی ہے کہ ناظم عمومی نے مقدمہ بازی کی شروعات کرکے ایک غلط پہل کی ہے جبکہ مقدمہ بازی کی ابتدا الزام لگانے والوں کی طرف سے اس وقت کردی گئی تھی جب انہوں نے امیر جمعیت حافظ محمدیحيٰ دہلوی اور ناظم عمومی مولانااصغر علی امام مہدی سلفی کے خلاف کچھ دنوں قبل ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔


پریس ریلیز میں مزیدکہاگیاہے کہ الزام لگانے والے ٹولے نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی کی جائدادکی انکوائری کے لئے عدالت میں جانے کی بات کہی ہے ۔حالانکہ یہ خلفشار پھیلانے والے خود ملک و بیرون ملک کے خیر اتی اداروں میں رہنے والے اور ذاتی ادارے چلانے والے ہیں۔ انہوں نے ان خیراتی اداروں سے کتنا فائدہ اٹھایا ہے اور کیا کیا ذاتی جائداد بنائی ہے قوم کے سامنے اس کا بھی حساب جلد بے باق ہونا چاہئی۔
I انہوں نے کہا کہ مجلس شوریٰ مرکزی جمعیت نے باربار ناظم عمومی کا انتخاب کرکے خلفشار پھیلانے والوں کے اوچھے الزامات کی تردیدکردی ہی۔ شوریٰ وعاملہ نے ناظم عمومی پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیاہے اور ان کی کارکردگی کو سراہاہے جو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس کے برخلاف مجلس عاملہ نے انتشار پھیلانے والوں کی اس حرکت کو کنڈم کرتے ہوئے ان کو موقع دیا تھا کہ وہ ایک مہینہ کے اندر اپنی غیر دستوری جمعیت کو تحلیل کردیں اس کے بعد ہی کسی طرح کی بھی گفتگو دستور کی رو شنی میں ممکن ہوسکے گی۔ لیکن ان انتشار پھیلانے والوں نے اس مہلت کو درخور اعتنا نہیں سمجھا ۔
پریس ریلیز میں ارکان عاملہ نے افرادجماعت کے ہرخاص وعام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کے بے بنیادالزامات اورگمراہ کن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اورجماعت کے اندر افتراق وانتشارپھیلانے والوں کی غلط بیانیوں کے شکار نہ ہوں۔
جاری کردہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…