پارلیمنٹ میںمولانابدرالدین اجمل کے ذریعہ سلفیت کودہشت گردی سے جوڑے جانے پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی ہنگامی میٹنگ

دہلی: ۳۱دسمبر۲۰۱۸ء:

آج مورخہ ۳۱دسمبر ۲۰۱۸ءکو اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی میںمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران واراکین ، اعیان جماعت اور ذمہ داران مدارس اہلحدیث کی ایک اہم ہنگامی نشست زیر صدارت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ منعقد ہوئی جس میں پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں طلاق ثلاثہ کے بل پر بحث کے دوران مولانابدرالدین اجمل( ممبرپارلیمنٹ)کے سلفیت پر دہشت گردی کے افسوسناک وقابل مذمت الزام سے پیداشدہ صورت حال اورمسلمانوں بالخصوص سلفیوںکے اضطراب وبے چینی کاجائزہ لیاگیااور موجودہ دور میں اتحاد ملت، قومی یکجہتی ، پرامن بقائے باہم کی اہمیت و ضرورت پر زور دیا گیا اور اس بات کی تاکید کی گئی کہ افراد و قائدین ملت اللہ کی رسی کتاب و سنت کو تھام کر اپنے قول وعمل سے اتحاد و اتفاق اور اخوت و بھائی چارہ کا مظاہرہ کریں اور کوئی ایسی بات یا اقدام نہ کریں جس سے اکرام مسلم اور اتحاد قوم وملت اور انسانیت کے کاز کو ٹھیس پہنچتی ہو اور کسی طرح کی فرقہ واریت اور تشدد و اشتعال انگیزی کو راہ اور فرقہ پرست اور ملک وملت دشمن عناصر کو شہ ملتی ہو۔ افراد ملت خصوصا قائدین ایک دوسرے کا احترام کریں اور اپنے فقہی ومسلکی اختلافات کو آپسی افتراق اور ملی انتشار کا شاخسانہ نہ بننے دےں۔ کیوں کہ یہ کسی بھی طرح ملک وملت اور انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے۔
دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور ہے اور کتاب وسنت کی روشنی میں ایک مردود و مذموم عمل ہے۔ خواہ اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے اور کہیں بھی انجام دے لیکن افراد کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں اور دہشت گردی کے مذموم عمل میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس کے مذہب یا مسلک کو مورد الزام ٹھہرا نا درست نہیں ہے ۔اس لیے کہ دہشت گردوں کا کوئی بھی مذہب یا مسلک نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کی روک تھام اور مذمت ایک دینی وانسانی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے اپنے عقیدہ و منہج کی رو سے ملک میں سب سے پہلے دہشت گردی پھر داعش کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور اردو، انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں میں اجتماعی فتوی جاری کر کے اور سیمینارو سمپوزیم منعقد کر کے اس کی بیخ کنی کی کوششوں مےںبھرپورحصہ لےاجس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس کا اعتراف اکابرین ملک وملت اور مسلم وغیر مسلم دانشوروں نے بار ہا کیا ہے۔ ایسے میں جماعت اہل حدیث اور سلفیت کو دہشت گردی سے جوڑناانصاف کے خلاف ہی نہےںبلکہ مضحکہ خیز بات معلوم ہوتی ہے۔کےونکہ سلفےت کتاب وسنت کی اس روشن شاہراہ ،عقےدہ ومنہج سے عبارت ہے جس پر صحابہ¿ کرام ،تابعین وتبع تابعےن گامزن تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مورخہ ۷۲ دسمبر ۸۱۰۲ءکو پارلیامنٹ ہاﺅس میں مولانا بدر الدین اجمل کے غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد بیان کی بلا تفریق مسلک ذمہ داران ودانشوران ملت نے بروقت مذمت و تردید کی اور اس پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ اسی طرح پارلیامنٹ میں موجود مسلم و غیر مسلم اراکین اور لوک سبھاکی براہ راست نشرہونے والی کارروائی دیکھنے والے لوگوں نے اپنی حےرت واستعجاب کا اظہار کیا اور اسے فرقہ وارانہ منافرت اور مسلکی تناﺅ پےداکر نے والا بیان قرار دیا۔ اور یہی وطن عزیز کی شان اور امتیاز ہے۔ لیکن بعض مسلم تنظیموںبالخصوص آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کی خاموشی حیرت انگیز ہونے کے ساتھ افسوسناک بھی ہے۔جبکہ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ اسی سے متعلق تھا اور اس مسئلہ میں جماعت اہل حدیث نے ہر قدم پر بورڈ کا ساتھ دیا اور ملی اتحاد کا بھر پور ثبوت فراہم کیا نیز ملت کا شیرازہ منتشر ہونے سے بچایا جس کا صلہ بورڈ ہی کے ایک ممبر نے اتنے سنگین الزامات لگا کر پوری قوم و جماعت کو تکلیف پہنچا کر دیا۔ مذکورہ بیان نے دہشت گردی مخالف ان سرگرمیوں اور کوششوں کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے جو برسوں سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور دیگر تنظیمیں کررہی تھیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مولانا بدر الدین اجمل کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے نہ صر ف جماعت اہل حدیث بلکہ تمام مسلمانوں اور انصاف و امن پسند برادران وطن کو تکلیف پہنچی ہے اور اس سے ملی اتحاد اور قومی یک جہتی کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ اور اس سے اللہ نہ کرے پوری ملت اور انسانیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔گرچہ مولانا نے اس سلسلہ میںاپنے لیٹرہیڈپر معذرت کرلی ہے اور ای ٹی وی پر بھی اپنا معذرتی بیان نشر کیا ہے،علاوہ ازیں پارلیمنٹ کی کارروائی سے حذف کرنے کی درخواست بھی دے دی ہے اور ان کے بقول وہ قبول بھی کرلی گئی ہے۔بعض بیانات میں انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ وہ بہک گئے تھے اور ان کا منشاءسلفی بھائیوں کوتکلیف پہنچانانہ تھا۔لیکن چونکہ مولاناکے بیان سے احباب جماعت میں شدیدبے چینی پائی جارہی ہے لہٰذا مولانا مرکزی جمعیت کے نام اپنا ایک تحریری بیان بھی ارسال کریںاور پارلیامنٹ کے اسٹیج سے ہی اس الزام کی تردید کو یقینی بنائیں تاکہ اضطراب کی شدت ختم ہو۔ ساتھ ہی اس ہنگامی میٹنگ نے افراد جماعت وملت سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس نازک موقع پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔منہج سلف کا مزاج ہے کہ وہ کسی بھی مسئلہ میںوسطیت واعتدال کا راستہ اختیار کرتاہے اورکسی بھی حال میں اپنے ماننے والوں کوکسی بھی قسم کے غلو،تشدد اوربے اعتدالی کی اجازت نہیں دیتا ۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی میٹنگ میں یہ بھی طے کیاگیاکہ اس حوالے سے ہر ممکن کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی اتحاد ملت ویکجہتی کوپارہ پارہ کرنے کی جرا¿ت نہ کرسکے اورقوم وملت بلاوجہ بے چینی واضطراب کا شکار نہ ہو۔
جاری کردہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند