مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ۳۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کا پروقار آغاز ملک وبیرون ملک کے اکابرعلماء کرام اور عمائدین ملک وملت کا خطاب مسجد نبوی کے داعی ڈاکٹر سلیمان سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ رام لیلا میدان کل ظہر اورمغرب کی نماز پڑھا

Photo f

نئی دہلی: ۱۲؍مارچ ۲۰۱۶ء
’’ائمہ کرام صلح وآشتی ، محبت و اخوت کے علمبردار ہیں۔یہ دہشت گردی اور فتنہ وفساد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ دنیا کے پالنہار سے بندوں کا رشتہ استوار کرتے ہیں ، اتحاد و یکجہتی کی تعلیم دیتے ہیں، قومی، ملی اور مسلکی تفریق مٹاتے ہیں یہ مصلحین قوم وملت حضرات ائمہ کرام پھر سے تیار ہوگئے۔ داعش اس ملک میں قدم نہیں رکھ سکے گا۔ ‘‘ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا موصوف آج یہاں دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دو روزہ عظیم الشان بین الاقوامی تینتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بعنوان ’’ انسانیت کے فروغ اور پر امن معاشرہ کی تشکیل میں ائمہ وخطباء کا کردار اور ان کے حقوق‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ آج پوری عالم انسانیت کو مختلف چیلنجوں ا ور مسائل کا سامنا ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ا ن مسائل کے حل کے لیے سرگر م عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن وشانتی کے علمبردار ہیں اور داعش اور اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کی مذمت کرتے ہیں۔ اپنے پر مغز کلیدی خطبہ میں ناظم عمومی نے پر زور انداز میں کہا کہ امام نظم و ضبط اور امن وسلامتی کا ضامن ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ داعش اس ملک میں قدم نہیں رکھ سکے گا۔ وہ اپنی ظلم وبربریت کی وجہ سے ہلاکو وچنگیز کی جماعت سے جاملا ہے۔ وہ ابن صبا اور خارجی وصبائی ٹولہ سے رشتہ استوار کرنے کی وجہ سے دہشت گردی کا منحوس طوق گلے میں ڈال چکا ہے۔ ایسی صورت میں ائمہ کرام کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ محبت ،نرم دلی، شفقت و مودت کا درس دیں۔ وہ جس دین کو ماننے والے ہیں وہ اسلام ہے۔ اس کے معنی امن وسلامتی کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ آپ اتحاد کا داعی بنیں۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں سب بھائی بھائی ہیں۔ جماعت اہل حدیث ہند کے جنگ آزادی میں قابل فراموش کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امامت کی اہمیت وضرورت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قابل اور باصلاحیت صحابہ کرام کو امام بننے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ 
ناظم عمومی نے فرمایا کہ امام معاشرے کا امین اور نگہبان ہوتا ہے۔اس تعلق سے چند تجاویز پیش کرتے ہوے کہا کہ نوجوانوں کی خصوصا تربیت اسلامی کریں جو ملک وملت اور انسانیت کے صالح ترین عنصر ہی نہیں بلکہ کل کے مرد میدان اور صالح رجال کار ہیں۔ وہ امن کے علمبردار بنیں اور فتنہ وفساد اور دہشت گردی وآتنگ واد کے درپے آزار ہوں۔ صادق وامین بنیں۔ 
کانفرنس کی مجلس استقبالیہ کے صدر مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے زندگی کے تمام گوشوں میں ایسی درخشندہ وتابندہ روایات چھوڑی ہیں جو ہماری روشن تاریخ کے سنہرے اوراق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اہل حدیث ایک ایسی تحریک ہے جو ہر دور میں انسانیت کو مختلف مسائل سے نجات دینے کے لیے کتاب وسنت کی روشنی میں رہنمائی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا آج ایک منظم سازش کے تحت یہودی لابی اور اس کے زیر اثر میڈیا کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور دہشت پسندی کو اسلام کی طرف منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی جارہی ہے ۔ یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام امن وشانتی کا دین ہے۔ اتحاد واتفاق کی فضا قائم کرنا ہمارا فرض ہے۔ 
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر حافظ محمد یحییٰ دہلوی نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ آج دنیا انتہائی پر آشوب دور سے گزر رہی ہے ، عدم رواداری اور عدم تحمل کا ماحول تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ہم اماموں کی خاموشی نیز دین اسلام کی خوبیوں کو غیروں تک نہ پہنچانے کا نتیجہ ہے کہ یہ فتنے ہمارے دروازوں پر دستک دینے لگے ہیں اور اسلام کی شبیہ کو بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسلام جوڑنے کا کام کرتا ہے توڑنے کا نہیں۔ داعش القاعدہ اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی سرگرمیاں و کارروائیاں اسلامی شریعت میں حرام اور مجرمانہ کام ہیں۔ ہم ان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ اور قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتے ہیں۔ امیر محترم نے اپنے خطبہ میں بہت ساری نصیحت آموز باتیں بیان فرمائیں۔ 
جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر کے ناظم اعلیٰ مولانا شیم احمد ندوی نے اپنے تاثرات میں ذمہ داران خصوصا مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارک باد دی اور موضوع کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کانفرنس کے انعقاد سے ملک میں امن و شانتی کا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں دہشت گردی،، خوں ریزی اور بے قصوروں کے قتل کی سخت خدمت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کی اصلاح کے لیے ائمہ اور خطباء کا بڑا اہم رول ہے۔ اورکردار سازی میں بہت نمایاں کردار ادا رکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم نے مساجد کے کردار کو محدود کردیا ہے جبکہ دور نبوی اور خلفاء راشدین کے دور میں صلح وآشتی اور امن وآشتی کے فیصلے کئے جاتے تھے۔ 
جامعہ سلفیہ بنارس کے ناظم اعلیٰ مولانا عبداللہ سعود نے اپنے تاثراتی کلمات میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو اس اہم کانفرنس کے بروقت انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ تمام انسانوں کا رب اللہ ہے۔ اس پیغام کو ہر کسی تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اللہ سے ہمارا رشتہ مضبوط ہونا چاہئے۔ ہندوستان ہماری جائے پیدائش ہے۔ اس کی حفاظت ترقی ہماری ذمہ داری ہے اور ہرحال میں اس ملک کی حفاظت کریں گے۔ 
ڈاکٹر محمد احمد قاضی کلچرل اٹیچی سفارت خانہ مصر نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ مساجد امن وشانتی کی علامت ہیں۔ نازک حالات میں ائمہ و خطباء کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ روابط بڑھانے ور حسن اخلاق کا مظاہر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہم پر فرض ہے اور ہم اسلام دشمن عناصر کو سمجھائیں کہ اسلام خیر خوا ہ ہے، اسلام ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ملک میں مختلف مسائل کے ازالہ میں ائمہ وخطباء اہم رول ہمیشہ ادا کرتے رہے ہیں۔ ائمہ کرام کے لیے میراناصحانہ مشور ہے کہ وہ شخص بن کر نہ جئیں بلکہ شخصیت بن کر رہیں۔ کیوں کہ شخص مرجاتا ہے اور شخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مساعی مشکور ہیں اور ائمہ مساجد کے عنوان پر کانفرنس کے انعقاد کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ 
حافظ عتیق الرحمن طیبی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی نے کہا کہ حقوق اللہ حقوق العباد کے بغیر ادا نہیں ہوسکتا۔ امن وامان قائم رکھنا بندوں کا حق ہے۔ بد امنی ظلم ہے۔ اپنی بنیاد سے جڑ کر رہیں۔اختلاف سے بچیں میں آپ سبھی کو نصیحت کرتا ہوں کہ مرکز کے ساتھ جڑ کر رہیں۔ 
شیخ فیصل عبدالقادر صحراوی نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اللہ کا یہی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں۔ سماج کے ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ دہشت گردی بہت بڑی لعنت ہے۔ 
دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے مہتمم ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی نے ائمہ وخطباء کے حوالہ سے اتنی عظیم الشان کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارکباد دی ۔ شرک سب سے بری چیز ہے اور اصلاح معاشرہ میں امام کا کردار اہم ہے۔ 
آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے صدر مولانا عمیر الیاسی نے اتنے بڑے پیمانے پر اس قدر اہم موضوع پر کانفرنس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہہ ہمارا مقصد اتحاد ہے ، ہم سب ایک ہیں۔ ہماری شناخت جو ٹوپیوں اور پگڑیوں سے ہے اس کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کی خالص تعلیمات کے ذریعہ ہونی چاہئے۔ ہمارے قائدین اپنی پہچان پر توجہ دیتے ہیں جب کہ اسلامی تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ 
مولانا زاہد رضا رضوی سابق چیئرمین اتراکھنڈ حج کمیٹی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی یہ امتیازی شان ہے کہ وہ اپنی ہر کانفرنس کے لیے ایک نیا، اچھوتا، ملت کی نبض کو ٹٹولتا ہوا اور سلگتے مسائل کی طرف ملت کی توجہ دلانے والا ہوتا ہے۔ اس کانفرنس کا عنوان بڑا اہم ہے۔لہذا ائمہ کرام کو اپنی ذمہ داری کی طرف مزید متوجہ ہونے کی ضرورت ہے اور اتحاد و اتفاق ضروری ہے۔ دشمن ہمیں لڑا نا چاہتا ہے۔ 
ڈاکٹر سلیمان نے اپنے تاثر میں کہا کہ ائمہ حضرات لوگ کی پرامن انداز میں تربیت کریں۔ ان کے ساتھ خیر خواہانہ طریقے سے پیش آئیں۔ حکمت سے اپنی دعوت کو پیش کریں۔ اختلاف کو مٹائیں۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرہ میں پائے جانے والے فکری انحراف کو ختم کرنے کوشش کریں۔ 
اس موقوع پر دہشت گردی اور داعش کے خلاف مرکزی جمعیت کے فتویٰ کا دوبارہ اجراء ہوا جو کہ جریدہ ترجمان کے خصوصی شمارہ میں شائع کیا گیا ہے۔ 
مولانا عبدالشکور اثری نے کہا کہ مسلمان اپنا فرض امر بالمعروف نہیں ادا کرتے۔ دہشت گردی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ مرکز سے الگ ہونا کٹی پتنگ کے مثل ہے۔ 
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء پر منعقد ہونے والی یہ کانفرنس بہت اہم ہے۔ اس کے لیے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ 
واضح رہے کہ کل ظہر اورمغرب کی نماز کی امامت مسجد نبوی کے سینئرمدرس ڈاکٹر سلیمان سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ خطاب فرمائیں گے۔
مجلس کی نظامت مولانا خورشید عالم مدنی قائم مقام امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار نے کی اور قاری صغیر احمد سلفی کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا۔

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://www.ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…