ملک وملت کی تعمیر وترقی کیلئے اسلاف کی قربانیاں مشعل راہ ہیں:مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام’’جدوجہدآزادی میں اسلاف کی قربانیاں ملک وملت کی تعمیر وترقی کیلئے رول ماڈل‘‘کے عنوان پر عظیم الشان قومی سمپوزیم کا انعقاد
نئی دہلی: ۱۷؍ اگست ۲۰۲۶ء
وطن عزیز کا ہر خاص وعام جانتا ہے کہ کتنی قربانیوں اور کس طرح کے خونچکاں حالات اور پرآشوب دور سے گزر کر ،خون جگر جلا کر ،گردن کٹا کر،مصیبتیں جھیل کر اور دار ورسن کے منازل طے کرکے صبح آزادی نصیب ہوئی ہے جس کا ادنیٰ احساس کرتے ہی دل دہلتاہے اور آنکھوں سے خون کے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں ۔ہمیں اپنے اسلاف کی روشن تاریخ سے نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ جدوجہد آزادی اور تعمیر ملک ملت کے حوالے سے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو جان سکیں۔نعمت آزادی کی قدر کریں اور اس عظیم امانت کی حفاظ کریں ۔ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ’’جد وجہد آزادی میں اسلاف کی قربانیاں ملک وملت کی تعمیر و ترقی کے لیے رول ماڈل ‘‘ کے عنوان پر اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا ،نئی دہلی میں منعقدہ عظیم الشان قومی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایاآزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور سب سے بڑی دولت بھی، اس کے بغیر ایک انسان کچھ بھی نہیں ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کے پاس لاٹھی ہے تواسے جہاں چاہیں ،جیسے چاہیں گھماتے پھریں گے، بلکہ آپ کی لاٹھی سامنے والے کی ناک تک پہنچنے سے پہلے ہی آپ کی آزادی کوختم کردیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پدرم سلطان بود اس لئے نہیں کہا جاتا کہ ہم فخر کریں بلکہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں۔ جب ان کے مابین کوئی تفریق پیدا کرنے اورکسی طرح کی مذہبی،جغرافیائی اور لسانی اختلاف ڈالنے کی کوشش کرتا تو کوئی سرسید کی طرح کھڑا ہوجاتا کہتا کہ کیوں بٹ رہے ہو۔ بھارت ایک خوبصورت دلہن ہے اورتمہاری کھینچا تانی میں اگر اس کی انتہائی خوبصورت آنکھیں متاثر ہوتی ہیں تو یہ دلہن بھینگی اور کانی ہوجائے گی۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ہندومسلم،سکھ عیسائی اتحاد اور بھائی بھائی کے نعرے کو عملی جامہ پہنایا اور نفرت کے ہر فتنے کو مٹایاتب آزادی کی صبح نصیب ہوئی۔
امیر محترم نے مزید کہا کہ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ ہمارے اسلاف نے کن لوگوں کے خلاف جنگ لڑی اور آزادی حاصل کی تب تک ہم ٹکرائو اور تقسیم کی ذلت سے نہیں بچ پائیں گے ۔بنگال سے کون لوگ اٹھے تھے، فرائضی تحریک کہاں سے اٹھی اور کہاں پہنچی، یہ سب ہمارے نوجوانوں اور بچے بچے کو جاننے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر تحریک شہیدین کو یاد رکھنا ہوگا۔مولانا ابولکلام آزادرحمہ اللہ کے بقول آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑے ہوکر یہ اعلان کردے سوراج۲۴گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دستبردار ہوجائے تو میں سوراج سے دستبردار ہوجاوں گامگر ہندومسلم اتحا د سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ کیوں کہ اگرسوراج کے ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ صرف ہندوستان کا نقصان ہوگالیکن اگر ہمارا اتحادجاتا رہا تو یہ پوری عالم انسانیت کا نقصان ہوگا۔یاد رکھیں کہ ہمارے عظیم لیڈرگاندھی جی جو تقسیم کے سخت مخالف تھے،بعد میںتقسیم کیلئے تیار ہوگئے لیکن مولانا ابوالکلام آزاد آخری وقت تک اس کیلئے تیار نہیں تھے۔
مولانا سلفی نے کہا کہ آزادی ہمارے اسلاف کی دی ہوئی امانت ہے۔یہ ایک نعمت ہے جس کی قدردانی اور جوآئین ہمارے اسلاف نے ہمیں دیا ہے اس کی پاسداری اور اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانے کی ضرورت ہے اور خدمت ملک وملت اور انسانیت ہی آزادی کا صلہ اور اسلاف کی قربانیوں کی قدردانی ہے۔ اپنے ملک سے وفاداری ہمارا دین سکھاتا ہے،اس لئے ہمیں اپنے ملک کے امن وامان کی بقا اور تعمیر وترقی کیلئے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔
امیر محترم نے اپنے خطاب میں زور دے کر کہا کہ وطن سے محبت فطری ہے اور اسلام اور اس کی روشن تعلیمات نے وطن سے محبت بے حد اہمیت دی ہے جسے آپ نے آیات و احادیث،عربی اشعار اور مقولوں کے ذریعہ واضح کیا۔آپ نے اس موقع پر تمام دیش واسیوں کو یوم آزادی کی مبارکباد دی اور علماء کرام ،دانشوران عظام ،حاضرین اور میڈیا اہلکاروں کا بطور خاص شکریہ ادا کیا۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی نے امیر محترم کی مساعی جمیلہ کا خوبصورت انداز میں ذکر کیا اورکہا کہ وطن عزیز بے شمار قربانیوں کے بعد آزاد ہوا۔ جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والوں کو یاد کرنا ہمارے بیدار ہونے کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ علماء اہلحدیث آزادی کی تحریک چلانے میں پیش پیش تھے۔ علماء نے ہی عوام کے اندر جد وجہد آزادی کی شمع جلائی۔ انہوں نے کہا کہ حوصلہ شکنی کے لیے انگریزوں نے علماء کی تصانیف اور ان کی لائبریوں کو نذر آتش کردیا۔ آپ نے امیر محترم کی بہترین قیادت میں جمعیت کی شاندار خدمات کا بھی ذکر کیا۔
قبل ازیں ناظم اجلاس ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے تمام مقررین و شرکاء کا بصمیم قلب مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کے ذمہ داران کی طرف سے استقبال کیا اور جدوجہد آزادی کے مختلف مراحل کا تذکرہ کرتے ہوئے مجاہدین آزادی کی جدوجہد کا اجمالی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ عظیم الشان سمپوزیم کا تھیم یہی ہے کہ ملک وملت کی تعمیر وترقی کیلئے اسلاف کی قربانیوں کو رول ماڈل مانتے ہوئے اپنے حصہ کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
سمپوزیم میںمولانا صلاح الدین مقبول مدنی ،سرپرست مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے جدوجہد آزادی میں علماء اہل حدیث کا کردار کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اسلاف کی قربانیوں کا تفصیلی تذکرہ کیااور بطور خاص یہ شعر پڑھا کہ’’خون دل دے کے سنوارا ہے رخ برگ گلاب، ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔مولانا نے سمپوزیم کے انعقاد کومبارک اقدام بتایا اور نعمت آزادی کی قدر کرنے کی تلقین کی۔
پدم شری پروفیسر اختر الواسع ،پروفیسر ایمیریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے اپنے تاثراتی کلمات میں ذمہ داران جمعیت خصوصا امیر جماعت مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ علمائے صادق پور کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جن مدرسوں کو دہشت گردی کا اڈہ کہا جارہا ہے یہ وہی مدرسے ہیں جنہوں نے انگریزوں سے ملک کو آزادی دلانے کے لیے جد و جہد کی۔ انہوںنے کہا کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ علماء کا کارنامہ ہے کہ انہوںنے ملک کو آزاد کرانے کے ساتھ مذہب کا تحفظ بھی کیا۔
مولانا عبدالاحد مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الداسات الاسلامیہ نے ’’تحریک شہیدین : جد و جہد آزادی کا نقش اولین‘‘ کے موضوع پرمغز خطاب کیا اورتحریک شہیدین پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
فیروز احمد ایڈوکیٹ صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نے اپنے تاثرات میں سمپوزیم کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم کی ستائش کی اور کہا کہ آزادی کو برقرار رکھنے کے طریقہ کار پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کاملک کو آزادی دلانے اور تعلیم کے فروغ میں اہم رول رہا ہے۔ آزادی قابل قدر نعمت ہے جس کا تحفظ ضروری ہے۔
مولانا عطاء الرحمن قاسمی صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ، دہلی نے سمپوزیم کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ۱۸۵۷ یا اس سے پہلے کی تحریک آزادی پر غور کیا جائے تو ایک بات جو نکھر کر سامنے آتی ہے یہ تحریک کسی خاص طبقے یا مذہب کی تحریک نہیں تھی بلکہ یہ ہندو مسلم اتحاد کی تحریک تھی۔ اور سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ دیش کو ہرصورت میں انگریزوں سے آزاد کرائیں گے۔
مولانا رضوان رفیقی اسسٹنٹ سکریٹری جماعت اسلامی ہند نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ ہمارے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہم لوگ جنگ آزادی کے اصل ہیروئوں کو یاد کررہے ہیں۔ انہوں نے سمپوزیم کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آزادی ہمارے اسلاف کی جد و جہد سے عبارت ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلاف کے ان کارناموں کو نئی نسل کے سامنے سادہ اسلوب میں پیش کیا جائے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے شعبہ اردو کے پروفیسر ندیم احمد نے سمپوزیم کے انعقاد پرامیر جمعیت مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارکباد پیش کی اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اپنے موضوع’’نعمت آزادی اور اس کے تقاضے‘‘پر پرمغز گفتگو کی اور آزادی کا صحیح مفہوم واضح کیا اور آزادی کے کیا کیا تقاضے ہیں اس پربھرپور روشنی ڈالی اور کہا کہ آزادی کی قدر کریں۔
مولانا اظہر مدنی ڈائریکٹر اقراء انٹر نیشنل اسکول ، جیت پور، نئی دہلی نے جد و جہد آزادی میں علماء صادق پور کی قربانیاں‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کئی تاریخی کتابوں کے حوالے سے کہا کہ آزادی کی تحریک میں علماء اہل حدیث پیش پیش رہے ہیں۔ خاص طور سے ملک کو آزادی دلانے میںعلماء صادق پور کا بہت اہم اور ناقابل فراموش کردار رہا ہے۔ جس سے نئی نسل کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔
مولانا عبدالغنی مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ نے ’’تحریک آزادی میں مدارس اسلامیہ کا کردار‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے کے بعد لوگوں کے اندر ملک کو آزادی دلانے کے تئیں ایک ولولہ انگیز پیغام پہنچا اور پورے ہندوستان کے عوام انگریزوں کے خلاف لڑنے کے لیے کمر بستہ ہوگئے۔
ایڈوکیٹ رئیس احمد ممبر ایڈوکیٹ پینل حکومت دہلی نے ’’انسانی زندگی میں امن وقانون کی پاسداری‘‘ کے عنوان پر اظہا ر خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان بہت پر امن اور امن پسند ہیں۔ ہندوستان کے علماء مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوںنے ملک میں حالات کو خراب ہونے نہیں دیا۔
ڈاکٹر جنید حارث استاذ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی نے’’ قومی یکجہتی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ وقت کی بڑی ضرورت‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے جمعیت اہلحدیث ہند کو کتاب وسنت کی امین قراردیا اور کہا کہ جمعیت و جماعت سے وابستہ افراد فرقہ واریت کے خلاف ہمیشہ سینہ سپررہے۔ انہوںنے اتنے اہم موضوع پر سمپوزیم کرانے پر مرکزی جمعیت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اسلاف نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بقاکے لیے لڑائی لڑی ۔ ہمارا خواب اکھنڈ بھارت کا ہے۔
پروفیسر مظہر علی سلفی استاذ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نے’’ آزادی کا تحفظ- خوشحالی اور پر امن بقائے باہمی کا ضامن‘‘ کے موضوع پر اظہارخیال کیا اور انہوں نے اتنے اہم موضوع پر سمپوزیم کے انعقاد پر امیر جماعت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے حقوق سے آگاہ ہو اور دوسرے کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔خوشحالی اور پرامن بقاء باہمی آزادی کے بغیر ممکن نہیں ہے،اس لئے اس کی قدر کرنی چاہیے۔
حافظ شکیل احمد میرٹھی،سابق امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے سمپوزیم کے انعقا دپر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارکباد پیش کیا اورتاریخی واقعات کی روشنی میںجنگ آزاد میں اہل حدیث علماء کے نمایاں کردار کا تذکرہ کیااور آزادی کی امانت کا پاس ولحاظ رکھنے کی تاکید کی۔
حافظ محمد یوسف ،نائب ناظم مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے متحدہوکر یہ فیصلہ کیا کہ اب ہمیں یہیں مرنا اور جینا ہے ۔ آج پھر ضرورت ہے کہ کوئی ابوالکلام آزاد پیدا ہو اور ہماری رہنمائی کرے اور ہمیں ذہنی غلامی سے آزاد کرائے۔
مولانا محمد مستقیم سلفی سابق پرنسپل المعہد العالی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں پر ملک سے بے وفائی کے الزام کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ مسلمانوں کے اندر وطن سے محبت کا جذبہ فطر ی طور پر موجود ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی قیادت سمپوزیم کے انعقاد پر مبارکباد کی مستحق ہے۔
اس سمپوزیم کا آغاز حافظ ارمغان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔اس میں دہلی واطراف کے ائمہ ومتولیان،اساتذہ و طلبا مدارس وعصری جامعات ،صحافی حضرات کے علاوہ عوام وخواص نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔